استفتاء
”درود تنجینا“ ہمارے اکابر کے معمولات میں سے ایک ہے۔ ہمارے اکابرین اسے پڑھتے بھی ہیں اور اس کی اجازت بھی دیتے رہتے ہیں۔ اس درود شریف کے خلاف یہ تحریر سامنے آئی ہے۔ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ اس کا شافی ووافی جواب مرحمت فرمائیں۔ جزاک اللہ۔تحریر یہ ہے:
”درود تنجینا“ کے نام سے جو درود نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر پڑھا جاتا ہے اس کے الفاظ گھڑے ہوئے ہیں، سنت مبارکہ اور آثار میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اسے مورخ اور ادیب عبدالرحمٰن بن عبدالسلام الصفوری (متوفی 894ھ) نے اپنی کتاب ”نزھۃ المجالس و منتخب النفائس“ میں ذکر کیا ہے اور مالکی فقیہ شیخ عمربن علی بن سالم الفاکھانی النحوی نے بھی اپنی کتاب ”الفجر المنیر“ میں کسی شیخ موسیٰ کے حوالے سے لکھا ہے کہ:’’ہم ایک قافلے کے ساتھ بحری جہاز میں سفر کررہے تھے کہ جہاز طوفان کی زد میں آگیا ۔یہ طوفان بشکل قہر خداوندی جہاز کو ہلانے لگا اور ہم لو گ یقین کر بیٹھے کہ جہاز چند لمحوں میں ڈوب جائے گا اور ہم لقمہ اجل بن جائیں گے۔ ملاحوں نے بھی سمجھ لیا تھا کہ اتنے تندو تیز طوفان میں کوئی قسمت والا جہاز ہی بچتا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: اس عالم افراتفری میں مجھ پر نیند کا غلبہ ہو گیا۔ چند لمحے غنودگی طاری ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ حضور آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور مجھے حکم دیا کہ تم اور تمہارے ساتھی یہ درود ہزار بار پڑھو ۔ میں بیدار ہوا، اپنے دوستوں کو جمع کیا، وضو کرکے درود پاک پڑھنا شروع کر دیا۔ ابھی ہم نے تین سو بار درود پاک پڑھا تھا کہ طوفان کا زور کم ہونے لگا اور آہستہ آہستہ طوفان رک گیا اور تھوڑے ہی وقت میں آسمان صاف ہو گیا اور سمندر کی سطح پرسکون ہو گئی۔ اس درود پاک کی برکت سے تمام جہاز والوں کو نجات مل گئی‘‘یہ بات معلوم ہے کہ خواب سے کوئی شرعی حکم یا کسی عمل کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ لہٰذا محض ایک خواب کی بنیاد پر اس کی فضیلت ثابت کرنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کامل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور اسلام کو تمہارے لیے بطور دین پسند کر لیا ہے“۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اسے پوری دیانت و امانت کے ساتھ ہمیں کامل صورت میں پہنچایا ہے اور اس میں سے کچھ بھی چھپا کر نہیں رکھا۔ ایک مسلمان کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے ثابت شدہ اعمال کو بجا لانا ہی کافی ہے۔ اپنی طرف سے عبادات گھڑنے اور خوابوں سے ان کا استحباب ثابت کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں جبکہ صحیح ثابت شدہ احادیث میں ایسی دعائیں ملتی ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کرب اور مصیبت میں کہا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر صحیح البخاری اور صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم مصیبت میں یہ کلمات فرمایا کرتے تھے:لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِاور امام ترمذی نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو جب کوئی مصیبت یا شدت پہنچتی تو وہ فرمایا کرتے تھے:
يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُشیخ البانی نے اسے صحیح الترمذی میں حسن کہا ہے۔پس مسلمان کو چاہیے کہ دین میں نئی نئی چیزیں نکالنے کی بجائے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے طریقے کی پیروی کرے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کیا خوب فرمایا ہے: ”اتباع کرو اور نئی چیزیں مت نکالو کیونکہ تم (قرآن و سنت کے ذریعے) کفایت کیے گئے ہو۔“
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس تحریر کے اہم اجزاء کے پیشِ نظر درج ذیل امور ملاحظہ ہوں:
[1]: فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿اِنَّ اللہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۵۶﴾﴾
ترجمہ: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔
درود و سلام کے مختلف صیغے احادیث مبارکہ میں منقول ہیں۔ ان میں سے جس کو اختیار کیا جائے فرمانِ باری تعالیٰ کی تعمیل ہو جاتی ہے۔ چونکہ یہ الفاظ مختلف صیغوں سے منقول ہیں اس لیے ان سے یہ قاعدہ معلوم ہوتا ہے کہ صلوٰۃ و سلام کے حکم کی تعمیل ہر اس صیغہ سے ہو سکتی ہے جس میں صلوٰۃ و سلام کے الفاظ موجود ہوں، متعینہ طور پر کسی خاص صیغہ کی پابندی ضروری نہیں ہے۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی (ت1396ھ) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
”خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلوٰۃ یعنی درود شریف کے بہت سے مختلف صیغے منقول و ماثور ہیں۔ صلوٰۃ و سلام کے حکم کی تعمیل ہر اس صیغہ سے ہو سکتی ہے جس میں صلوٰۃ و سلام کے الفاظ ہوں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بعینہ منقول بھی ہوں بلکہ جس عبارت سے بھی صلوٰۃ و سلام کے الفاظ ادا کیے جائیں اس حکم کی تعمیل اور درود شریف کا ثواب حاصل ہو جاتا ہے۔“
جب درود شریف کے الفاظ میں وسعت ہے کہ جو الفاظ استعمال کیے جائیں وہ قرآنی حکم کی تعمیل شمار ہوتے ہیں تو درود تنجینا یا اس کے علاوہ دیگر الفاظ کو جبکہ ان میں شرک کا کوئی جملہ نہ ہو ”گھڑے ہوئے الفاظ“ اور ”سنت اور آثار سے ثابت نہ ہونے والے الفاظ“ کہہ کر رد کرنا کہاں درست ہو سکتا ہے؟!
[2]: درود تنجینا کی برکت سے طوفان سے نجات ملنے کا واقعہ شیخ موسیٰ الضریر رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ ان سے یہ واقعہ علامہ عمر بن علی بن سالم اللخمی المالکی المعروف تاج الدین الفاکھانی (ت734ھ) نے نقل کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
وأخبرني الشيخ الصالح موسى الضرير رحمه الله تعالى: أنه ركب في البحر
ترجمہ:مجھے شیخ صالح موسیٰ الضریر رحمہ اللہ تعالیٰ نے خود بتایا کہ وہ سمندری سفر پر تھے۔
علامہ تاج الدین الفاکھانی رحمہ اللہ کا شیخ موسیٰ الضریر رحمہ اللہ سے سماع و لقاء ”أخبرني الشيخ الصالح موسى الضرير“ کے جملے سے ثابت ہے۔ علامہ فاکھانی رحمہ اللہ خود فاضل فقیہ، حدیث، اصول اور ادب میں اعلی مقام پر فائز تھے۔ ( ) شیخ موسیٰ الضریر رحمہ اللہ تعالیٰ کو علامہ مجد الدین محمد بن یعقوب الفیروزآبادی (ت817ھ) نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد امت کے جلیل القدر اولیاء کرام میں شمار کیا ہے۔
لہذا یہ واقعہ صحیح و ثابت ہے۔
[3]: صاحب تحریر کا یہ کہہ کر درود تنجینا کو رد کرنا بھی درست نہیں کہ ”خواب سے کوئی شرعی حکم یا کسی عمل کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ لہٰذا محض ایک خواب کی بنیاد پر اس کی فضیلت ثابت کرنا جائز نہیں ہے۔“ اس لیے کہ
اولاً…. درود تنجینا کی برکت سے مصائب و آلام اور آفات و بلیات کا دور ہونا یہ ”فضیلت کا اثبات“ نہیں بلکہ درود شریف کی ایک ”خاص تاثیر کا حصول“ ہے۔ ”فضائل“ کا اثبات تو واقعی دلائل شرعیہ سے ہوتا ہے لیکن اس کی خاص تاثیر کا حصول کسی کے تلقین کرنے، خواب میں آ کر بتانے یا خود اپنے تجربہ ومشاہدہ کی بنا پر ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس درود شریف کی تاثیر کا مشاہدہ بھی ہوا کہ جہاز ڈوبنے سے محفوظ رہا۔ لہٰذا اس تاثیر کے اثبات کے لئے دلیل شرعی کا ہونا ضروری نہیں بلکہ مشاہدہ اور تجربہ ہی کافی ہے۔
ثانیاً…. خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر کسی بات کا حکم فرمائیں تو اس کے متعلق علماء نے اصول لکھا ہے کہ اگر وہ حکم شریعت کے موافق ہو تو عمل کیا جائے گا ورنہ نہیں۔ نیز یہ عمل کرنا بھی شریعت کا حکم ہونے کی وجہ سے ہوگا نہ کہ محض خواب کی بناء پر۔ چنانچہ حافظ ابو الفضل شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی الشافعی (ت852ھ) لکھتے ہیں:
ولا نزعم أنه حجة شرعية وانما هو نور يختص الله به من يشاء من عباده فان وافق الشرع كان الشرع هو الحجة.
ترجمہ: ہم اس بات کے قائل نہیں کہ یہ (خواب جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم آ کر کسی کام کا حکم فرمائیں)شرعاً حجت ہے بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ایسا نور ہے جسے اللہ نے اپنے خاص بندوں کو عطا فرمایا ہے، اس لیے اگر یہ (خواب والا حکم) شریعت کے موافق ہو تو (خواب کی بناء پر عمل نہیں کریں گے بلکہ شریعت کا حکم ہونے کی وجہ سے عمل کریں گے اس لئے کہ) حجت تو شریعت ہی ہے۔
مذکورہ واقعہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب میں آ کر درود شریف پڑھنے کی تلقین کرنا کہ اس سے طوفان و مصیبت دور ہوجائے گی یہ شریعت کے بالکل موافق بات ہے کیونکہ حدیث مبارک میں ہے:
“تكفى همك ويغفر لك ذنبك.”
ترجمہ: درود شریف زیادہ سے زیادہ پڑھنا تمہارے سارے دکھوں اور غموں کو دور کر دے گا اور تمہارے گناہوں کی بخشش کا سبب ہو گا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شیخ موسیٰ الضریر رحمہ اللہ کو خواب میں جو درود شریف پڑھنے کی تلقین فرمائی تھی تو یہ حکم شریعت کے مطابق ہے۔ اس لیے محض خواب کی بنیاد پر نہیں بلکہ خواب کی تائید سے اس حکم کے پیش نظر مذکورہ درود شریف پڑھنا اور اس کی برکت سے مصائب و آلام کے دور ہونے کا اعتقاد رکھنا جائز ہے۔
[4]: صاحب تحریر کی یہ بات بھی قابلِ تعجب ہے کہ وہ دیگر دعاؤں کا تذکرہ کر کے درود شریف کے ذریعے مصائب کے دور ہونے کی نفی کر رہے ہیں۔ شریعت مطہرہ میں مصائب و آلام کے دور ہونے کے کئی ذرائع منقول ہیں۔ مثلاً نماز، استغفار، درود شریف، حج و عمرہ، خاص دعائیں، ذکر و اذکار وغیرہ۔ اگر کوئی شخص استغفار کے ذریعے مصائب کی دوری طلب کر رہا ہو تو اسے یہ کہنا درست نہ ہو گا کہ استغفار چھوڑ کر ذکر واذکار یا فلاں دعا کرو !! بلکہ درست بات یہ ہو گی کہ جس ثابت شدہ ذریعے سے بھی اپنے مصائب دور کرنے کی سعی کی جائے جائز اور درست ہے۔
اس لئے دعاؤں کا تذکرہ کر کے درود شریف کی نفی کرنا درست نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا