• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

میلاد کی مٹھائی وغیرہ کھانے کا حکم

استفتاء

مروجہ طریقہ (بشکل لائٹیں،جھنڈے، لاؤڈ سپیکر، جلوس وغیرہ) سے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے والوں کے گھروں سے مٹھائی وغیرہ آنے پر اس کو واپس کر دینا چاہیے یا لے کر استعمال کر لینی چاہیےیا کسی غریب یا جانور کو کھلا دینا چاہیے۔ رہنمائی فرما کر ممنون فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

”میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم“ کے نام پر جشن منعقد کرنا نہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے۔ اسلاف و اکابرینِ امت سے میلاد منانے اور اس موقع پر کھانا یا مٹھائی تقسیم کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ تمام امور دین میں اضافہ ہیں ،جن سے بالکل احتراز کرنا لازم ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے اس موقع پر جو مٹھائی وغیرہ تقسیم ہوتی ہے اگر وہ غیر اللہ کے نام پر تقسیم ہو تو اس کا کھانا جائز نہیں اور اگر اللہ کے نام پر تقسیم ہو تب بھی اس موقع پر اس کا کھانا کراہت سے خالی نہ ہو گا۔ اس لیے اولاً تو اس مٹھائی کو وصول ہی نہ کریں لیکن اگر کوئی دے جائے تو خود کھانے کے بجائے کسی ضرورت مند کو دے دی جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved