• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

ذبح شدہ جانور کی کھال سے لگنے والے خون کا حکم

استفتاء

ایک مسئلہ درپیش ہے اس میں رہنمائی فرمائیں وہ مسئلہ یہ ہے کہ جانور کوذبح کرنے کے بعد اس کی جب کھال اتاری جاتی ہے تو اس سے نکلنے والا خون اگر کپڑوں پہ لگ جائے تو اسے دھوئے بغیر انہیں کپڑوں میں نماز ادا کی جاسکتی ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جو خون  ذبح کرتے وقت جانور  کی رگوں  سے بہتے ہوئے نکلتا ہے  اسے”دمِ مسفوح” کہتے ہیں ، شریعت میں  یہ خون  نجس اور  ناپاک ہوتا ہے۔ عام طور پر  کھال  سے نکلنے والا خون  بھی یہی ہوتا ہے اس لیے اس کے لگنے سے جسم اور  کپڑے ناپاک ہو جائیں گے۔لہٰذا اگر ایک درہم کی مقدار سے کم ہو تو ان کپڑوں میں نماز ہو جائے گی، ایک درہم سے زائد ہو تو ان کپڑوں میں نماز کی ادائیگی درست نہ ہو گی۔البتہ جو خون گوشت میں ہوتا ہے وہ ” دم مسفوح” میں شامل نہیں، اس لیے وہ ناپاک نہیں ، اس کے لگنے سے جسم اور کپڑے ناپاک نہ ہوں گے اس لیے ان کپڑوں میں نماز بھی درست ہو گی۔ واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved