• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

عمامہ کو نامناسب تشبیہ دینے کا حکم

استفتاء

عرض یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں بعض لوگ عمامہ كا استہزاء كرتے ہیں۔ جو لوگ بڑا عمامہ باندھتے ہیں ان كے بارے میں یہ كہتے ہیں كہ انہوں نے ركشے كا ٹائر باندھا ہوا ہے۔ تو كیا اس طرح كے الفاظ كہنے سے آدمی كافر ہوجاتا ہے؟اور كیا تجدیدِ ایمان اور نكاح كرنا پڑے گا؟نیز اس طرح كے الفاظ كہنے والوں كے پیچھے نماز پڑھنا كیسا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

عمامہ کا استہزاء کرنا الگ چیز ہے اور عمامہ کے مخصوص طرز اور سٹائل کو کسی چیز سے تشبیہ دینا بالکل دوسری چیز ہے۔ دقتِ نظر سے دیکھا جائے تو ان لوگوں کا عمامہ کو اس طرح کی تشبیہ دینا عمامہ کو مخصوص سٹائل پر باندھنے پر نقد و نکیر کرنا ہے، نفسِ عمامہ کی تحقیر مقصود نہیں۔ اس لیے ایسا کہنے سے یہ لوگ کافر نہیں ہوئے، نہ ہی ایمان اور نکاح کی تجدید کی ضرورت ہے۔ نیز ان کے پیچھے نماز پڑھنا بھی درست ہے۔ البتہ ان کی یہ تشبیہ نہایت غیر مناسب ہے جس سے احتراز لازم ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved