- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ ایک عورت جس کے پاس نصاب سے کم صرف سونا ہے، نہ اس کے پاس چاندی ہے نہ نقدی ہے اور نہ ہی ضرورت سے زائد سامان ہے لیکن اس کا مہر شوہر کے ذمہ ہے جو شوہر نے ابھی تک ادا نہیں کیا۔ اگر شوہر مہر ادا کر دے تو مہر کو سونے کے ساتھ جوڑتے ہی عورت صاحب نصاب ہو جائے گی ۔ تو ایسی صورت میں جبکہ عورت کے پاس ابھی تک مہر نہیں آیا اس پر قربانی اور زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرما کر عند اللہ ماجور ہوں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس عورت کو جب تک مہر کی رقم وصول نہ ہو جائے اس وقت تک اس پر زکوۃ اور قربانی واجب نہ ہو گی کیونکہ اس کے پاس موجود مال ”نصاب“ سے کم ہے، اور مہر کی رقم ”دَین ضعیف“ (کمزور قرض) ہے جس پر زکوٰۃ وغیرہ کا حکم اس کی وصولی کے بعد ہی ہوتا ہے۔علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد الحنفی المعروف ابن الہمام (ت861ھ) فرماتے ہیں:قسم أبو حنيفة رحمہ اللہ الدين إلى ثلاثة أقسام قوي … ومتوسط … وضعيف وهو بدل ما ليس بمال كالمهر والوصية وبدل الخلع … وفي الضعيف لا تجب ما لم يقبض نصابا ويحول الحول بعد القبض عليه.ترجمہ: امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے دَین (قرض) کو تین اقسام میں تقسیم کیا ہے: ایک دَین قوی، دوسرا دَین متوسط اور تیسرا دَین ضعیف۔ دَین ضعیف اس دَین کو کہتے ہیں جو مال کے علاوہ کسی دوسری چیز کے مقابلے میں ذمہ میں واجب ہوتا ہے جیسے عورت کا مہر، (میت کی طرف سے کی گئی) وصیت یا بدلِ خلع(جو عورت کے ذمہ ہوتا ہے)۔ دَین ضعیف میں زکوٰۃ کی ادائیگی اسی وقت واجب ہو گی جب مال بقدرِ نصاب انسان کی ملکیت میں آ جائے اور قبضہ کے بعد اس مال پر ایک سال بھی گزر جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved