- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ کوئی انسان عقیقہ کے جانور کو اپنی بیٹی کی شادی میں ولیمہ کے طور پہ مہمانوں کو کھلا سکتا ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
عقیقے کا گوشت ولیمے میں استعمال کر لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ اس میں ایک چیز کا خیال رکھا جائے تو بہت اچھا ہے کہ عقیقے کے گوشت کے تین حصے کر لیے جائیں۔ ایک حصہ خود استعمال کیا جائے، ایک حصہ دوست احباب کو اور ایک حصہ غرباء کو دیا جائے۔ اس لیے ولیمے میں کچھ غرباء کو بھی بلا لیا جائے تاکہ اس استحباب پر بھی عمل ہو جائے کہ عقیقے کا گوشت غرباء کو بھی کھلایا ہے۔ نیز غرباء کو اگر ولیمے میں نہ بلایا جائے تو ایسے ولیمے کو برا ولیمہ کہا گیا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ.
(سنن ابی داؤد: رقم الحدیث 3744)
ترجمہ: سب سے برا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں امیروں کو دعوت دی جائے اور غریب لوگوں کو نظر انداز کیا جائے۔
اس لیے غرباء کو بلانے سے انسان اس وعید سے بھی بچ جائے گا۔
نوٹ:
بیٹی کی شادی پر آنے والے مہمانوں کو جو کھانا کھلایا جاتا ہے اسے ولیمہ نہیں کہتے۔ بلکہ اسے مہمانوں کا اکرام اور ان کی دعوت کرنا کہا جا سکتا ہے۔ ”ولیمہ“ اس دعوت کا نام ہے جو رخصتی کے بعد لڑکے والوں کی طرف سے مہمانوں کو کھلائی جاتی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved