- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ عورت کےلیےسونے اور چاندی کے علاوہ کسی دھات سے بنی انگوٹھی پہننا جائز ہے ؟عورت کا شہادت کی انگلی پہ انگوٹھی پہننا کیسا ہے ؟جبکہ اہل بدعت کے نزدیک جائز نہیں ہے نیز چاندی کی انگوٹھی بائیں ہاتھ پہ بھی نہیں پہن سکتی کیونکہ چاندی پاک ہے اورد بائیں ہاتھ پاک نہیں ہے اور اگر دائیں ہاتھ پر پہننے گی تو دو رکعت نفل کا ثواب ملے گا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں عورتیں مختلف دھاتوں کے زیورات استعمال کرتی رہی ہیں مثلاً سونا، چاندی، پیتل، تانبہ وغیرہ۔ اسی طرح سیپ، گھونگے وغیرہ کو بھی بطور زیور استعمال کیا جاتا رہا ہے لیکن شریعت مطہرہ میں انگوٹھی کے علاوہ باقی زیورات کے لیےدھاتوں اور سیپ گھونگوں کو تو جائز مانا گیا ہے لیکن مردوں کے لیے چاندی کی (مقدار چار ماشے) اور عورتوں کے لیے سونے اور چاندی کے علاوہ باقی دھاتوں کی انگوٹھی سے منع کیا گیا ہے۔ دلائل درج ذیل ہیں:
• عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِىِّ صَلَّى الله عَلَيه وسَلَّم وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ فَقَالَ لَهُ: “مَا لِى أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الأَصْنَامِ”. فَطَرَحَهُ ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ: “مَا لِى أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ”. فَطَرَحَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مِنْ أَىِّ شَىْءٍ أَتَّخِذُهُ؟ قَالَ: “اتَّخِذْهُ مِنْ وَرِقٍ وَلاَ تُتِمَّهُ مِثْقَالاً”.
(سنن ابی داؤد: ج2 ص228 کتاب الخاتم․ باب ما جاء فى خاتم الحديد)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد حضرت بُریدہ بن الحُصیب الاسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے پیتل کی انگوٹھی پہن رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: کیا بات ہے کہ مجھے تم سے بتوں کی بو آتی ہے؟ تو اس شخص نے اس انگوٹھی کو اتار پھینکا۔ پھر وہ شخص ایک بار پھر حاضر ہوا۔ اس مرتبہ اس نے لوہے کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:کیا بات ہے کہ میں تم پر جہنمیوں کا زیور دیکھ رہا ہوں؟ اس شخص نے اس انگوٹھی کو بھی اتار پھینکا اور عرض کی: یارسول اللہ! میں کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:چاندی کی انگوٹھی بنواؤ لیکن خیال کرنا کہ وہ بھی ایک مثقال (یعنی چار ماشے) سے کم کی ہو۔
پیتل، لوہے وغیرہ کی انگوٹھی سے منع کی وجہ بتوں کی بو کا آنا یا جہنمیوں کے زیور کا ہونا ہے، یہ علت اور وجہ جس طرح مردوں کے حق میں ہے اسی طرح عورتوں کے حق میں بھی ہے۔
• حضرت مسلم بن عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا طَهَّرَ اللّهُ كَفًّا فِيهَا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ․
(المعجم الکبیر للطبرانی: ج14 ص371 رقم الحدیث 16399)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ ایسی ہتھیلی کو پاک نہیں فرماتے جس میں لوہے کی انگوٹھی ہو۔
• علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
والتختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء ․ (رد المحتار: ج9 ص594 کتاب الحظر والاباحۃ)
ترجمہ: مردوں اور عورتوں کے لیے لوہے، پیتل، تانبے اور سیسے کی انگوٹھی پہننا مکروہ ہے۔
• فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
ولا بأس للنساء بتعليق الخرز في شعورهن من صفر أو نحاس أو شبة أو حديد ونحوها للزينة والسوار منها․
(فتاویٰ عالمگیری: ج5 ص439 کتاب الکراہیۃ․ الباب العشرون فی الزینۃ واتخاذ الخادم)
ترجمہ: اگر عورت زینت کے لیے اپنے بالوں میں پیتل یا عام تانبے یا سنہری مائل تانبے یا لوہے وغیرہ کا منقش نگینہ بنا کر لٹکا دے یا ان چیزوں کے کنگن پہن لے تو کوئی حرج نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved