• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

غریب بھائی کو زکوۃ دینے کا حکم

استفتاء

عرض یہ ہے کہ اگر ایک گھر میں چار بهائی ایک ساتھ رہتے ہیں اور وه ہر ایک اپنی اپنی کمائی ہوئی آمدنی سےگهرکےاخراجات اکٹھے چلاتے ہیں اور ان میں ایک بهائی بہت غریب ہوتاہے لیکن گھر کے اخراجات میں اپنی کمائی ہوئی آمدنی سے اپنے حصے کے پیسے دیتا ہے تو کیا یہ تینوں بهائی جو مالی لحاظ سے بہتر ہے اس غریب بهائی کو زکوٰۃ دےسکتےہیں یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر بھائی واقعۃً مستحقِ زکوٰۃہو ہو تو اس کو زکوٰ ۃ دینا جائز ہے، اور ایسی صورت میں زکوۃ دینے میں دوگنا اجر ملے گا: ایک زکوۃ ادا کرنے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔زکوٰۃ کے متعلق اصول یہ ہے کہ اپنے اصول یعنی والدین اور ان کے والدین (دادا دادی ،نانا نانی، اوپر تک) اور اپنے فروع یعنی اپنی اولاد اور ان کی اولاد (پوتاپوتی، نواسا نواسی، نیچے تک) کو زکوۃدینا جائز نہیں ہے۔ ان رشتوں کے علاوہ باقی سب مستحق رشتہ داروں کو زکوۃ دینا جائز ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved