- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ اگر ایک گھر میں چار بهائی ایک ساتھ رہتے ہیں اور وه ہر ایک اپنی اپنی کمائی ہوئی آمدنی سےگهرکےاخراجات اکٹھے چلاتے ہیں اور ان میں ایک بهائی بہت غریب ہوتاہے لیکن گھر کے اخراجات میں اپنی کمائی ہوئی آمدنی سے اپنے حصے کے پیسے دیتا ہے تو کیا یہ تینوں بهائی جو مالی لحاظ سے بہتر ہے اس غریب بهائی کو زکوٰۃ دےسکتےہیں یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر بھائی واقعۃً مستحقِ زکوٰۃہو ہو تو اس کو زکوٰ ۃ دینا جائز ہے، اور ایسی صورت میں زکوۃ دینے میں دوگنا اجر ملے گا: ایک زکوۃ ادا کرنے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔زکوٰۃ کے متعلق اصول یہ ہے کہ اپنے اصول یعنی والدین اور ان کے والدین (دادا دادی ،نانا نانی، اوپر تک) اور اپنے فروع یعنی اپنی اولاد اور ان کی اولاد (پوتاپوتی، نواسا نواسی، نیچے تک) کو زکوۃدینا جائز نہیں ہے۔ ان رشتوں کے علاوہ باقی سب مستحق رشتہ داروں کو زکوۃ دینا جائز ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved