• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

استخارہ اور خواب کی بنیاد پر اہلِ بدعت کو اہلِ حق سمجھنے کا حکم

استفتاء

عرض یہ ہے کہ ایک شخص یہ جاننے کے لیے استخارہ کرتا ہے کہ کون سی جماعت حق پر ہے۔ استخارے کے بعد وہ خواب دیکھتا ہے کہ ایک بدعتی شخص اس کے سامنے آ کر یہ حدیث سناتا ہے:“لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحبَّ إليه… الحدیث”کیا محض اس خواب اور اس میں سنائی گئی حدیث کی بنیاد پر اہلِ بدعت کو اہلِ حق سمجھ لینا درست ہوگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

شرعاً حق و باطل کی پہچان کا مدار خواب، کشف یا الہام پر نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع پر ہے۔ خواب بذاتِ خود دلیلِ شرعی نہیں، نہ ہی اس سے عقائد اور مناہج کا فیصلہ کیا جاتا ہے، خصوصاً جب معاملہ کسی گروہ کے حق یا باطل ہونے کا ہو۔
یہ درست ہے کہ خواب میں بیان کی جانے والی حدیث اپنی اصل کے اعتبار سے صحیح ہے، لیکن اس حدیث کا تقاضا محض زبانی محبت نہیں، بلکہ عقیدہ، عبادات، معاملات اور منہج ہر پہلو سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل پیروی ہے۔ محبت کی حقیقی علامت اطاعت ہے، اور اطاعت اسی وقت معتبر ہوتی ہے جب دین کو کامل مان کر اس میں کسی قسم کے اضافے کو روا نہ رکھا جائے۔
اہلِ بدعت چونکہ دین میں نئی باتیں ایجاد کرتے ہیں، اس لیے وہ عملاً اس بات کے قائل نظر آتے ہیں کہ دین میں تکمیل کے باوجود اضافہ کی گنجائش ہے، جو شریعت کے مزاج کے خلاف ہے۔ لہٰذا کسی خواب میں کسی بدعتی کے منہ سے حدیث سن لینے کی وجہ سے اہلِ بدعت کو اہلِ حق سمجھ لینا درست نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ حق پر ہونے کی علامت خواب میں آنا نہیں بلکہ کتاب و سنت کی کامل اتباع ہے؛ اور جہاں کامل اتباع مفقود ہو، وہاں حق کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
                            واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved