• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

والدین کی زیارت اور دیگر اعمال کے ثواب کا تقابل کرنے کا حکم

استفتاء

حضرت! آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ کیا یہ مضمون کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے:”والدین میں سے کسی ایک کی زیارت کرنا حجِ مقبول کا ثواب رکھتا ہے۔“اگر یہ مضمون ثابت ہو تو کیا اسے بیان کرتے ہوئے اس طرح کہنا ٹھیک ہے کہ”اگر انسان بیت اللہ شریف دیکھنے کو جائے، لاکھوں روپے بھی خرچ کرے اور محبت سے بھی دیکھے، جتنی مرتبہ بھی محبت کی نگاہ ڈال دے لیکن ایک مقبول حج کا ثواب نہیں ملے گا، گو کہ ثواب ملے گا۔ اسی طرح کوئی شخص سفر کر کے اور تکلیف اٹھا کے گنبد خضراء کو دیکھنے جائے اور وہاں جا کر گنبد خضراء کو محبت کی نگاہ سے دیکھے تو ثواب ضرور ملے گا لیکن مقبول حج کا ثواب نہیں ملے گا۔ بیت المقدس کے لیے کوئی سفر کر کے جائے اور دیکھے تو ثواب ملے گا لیکن مقبول حج کا ثواب نہیں ملے گا۔ کوئی حج پر چلا جائے، چالیس دن وہاں گزارے، لاکھوں روپے لگائے لیکن گارنٹی نہیں ہے کہ اس کو حج مقبول کا ثواب ملا ہے! کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ کوئی شخص قرآن مجید کو باوضو ہو کر اٹھائے، عزت اور احترام سے اٹھائے، ہاتھوں میں لے کر اسے بڑی محبت سے دیکھے اسے مقبول حج کا ثواب نہیں ملے گا لیکن اگر کوئی اپنے باپ کو یا اپنی ماں کو بے وضو بھی دیکھے گا بغیر کچھ خرچ کیے، بغیر کہیں کا سفر کیے، اپنے گھر میں رہتے ہوئے دیکھے گا تو اسے ایک حج مقبول کا ثواب مل جائے گا۔ تو جن کے ماں باپ حیات ہیں وہ والدین کی قدر کر لیں۔“جواب عنایت فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ مضمون حدیث مبارک سے ثابت ہے۔ امام ابو بکر احمد بن ابراہیم بن اسماعیل الاسماعیلی(ت371ھ) اپنی سند سے روایت کرتے ہیں:
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ ( ) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ( ) حَدَّثَنَا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ( ) حَدَّثَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ( ) عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ( ) عَنْ عِكْرِمَةَ ( ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “مَا مِنْ وَلَدٍ بَارٍّ يَنْظُرُ إِلٰى وَالِدَيْهِ نَظْرَةَ رَحْمَةٍ إِلَّا كَتَبَ اللهُ بِكُلِّ نَظْرَةٍ حَجَّةً مَبْرُورَةً.” قَالُوا: وَإِنْ نَظَرَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ؟ قَالَ: “نَعَمْ! اللهُ أَكْثَرُ وَأَطْيَبُ.”(کتاب المعجم فی اسامی شیوخ ابی بکر الاسماعیلی: ج1 ص320 ترجمۃ ابو جعفر احمد بن الحسین العسکری)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو نیک صالح اولاد اپنے والدین کو محبت وشفقت کی نگاہ سے دیکھے تو اللہ تعالیٰ اسے ہر نگاہ کے بدلے میں ایک مقبول حج کا ثواب عطا فرمائے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اگر دن میں سو مرتبہ دیکھے تب بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تب بھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات بہت عطا فرمانے والی اور بڑی پاکیزہ ہے۔یہ روایت حسن درجہ کی ہے۔
[۲]: والدین کی زیارت کا ثواب بیان کرتے ہوئے اسے عملاً حج بیت اللہ کرنے اور دیگر اعمال سر انجام دینے کے ثواب سے تقابل کر کے پیش کرنا قطعاً درست نہیں۔ اس طرزِبیان کے مطابق اگر بیت اللہ کا حج کرنے والے کی قبولیت کی کوئی گارنٹی نہیں تو بالکل یہی بات والدین کی زیارت کے بیان میں بھی تو کہی جا سکتی ہے کہ وہاں بھی حجِ مقبول کا ثواب ملنے کی کوئی گارنٹی نہیں، کیونکہ جس طرح عملاً حج کرنے والے کا حج قبول ہونے کے لئے صحیح عقائد و نظریات، اخلاص اور نیت کا درست ہونا ضروری ہے اسی طرح والدین کو پیار و محبت سے دیکھتے ہوئے بھی شرائطِ قبولیت (صحیح عقائد و نظریات، اخلاص اور تصحیح نیت) کا ہونا بھی ضروری ہے۔ تو ایک عمل میں گارنٹی نہ ہونے کی بات کرنا اور دوسرے میں علی الاطلاق قبولیت کی بات کرنا کہاں درست ہو سکتا ہے؟! تقابل کا یہی انداز اگر پیش کیا جاتا رہا تو خدشہ ہے کہ کہیں ارکانِ اسلام کا باہمی تقابل ہی نہ شروع ہو جائے اور ہم اس تقابلی طرزِ عمل سے ایک رکن کی اہمیت کو بیان کرتے کرتے کہیں دیگر ارکانِ اسلام کی اہمیت ہی نہ کھو بیٹھیں!! اس لیے اس طرزِ بیان سے بالکلیہ احتراز کیا جائے اور اس کی حوصلہ شکنی کی جائے تاکہ اس کے مہلک نتائج سے امت کو بچایا جا سکے!واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved