• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

سالی کے ساتھ بدکاری کرنے سے نکاح کا حکم

استفتاء

اگر کسی شخص نے اپنی سالی کے اعضاء مخصوصہ کو یا دیگر کسی کو حصہ کو شہوت کے ساتھ چھوا ہو یا نعوذ بااللہ اس کے ساتھ زنا کیا ہو تو کیا ا س سے اس کی بیوی کو طلاق ہوگی یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سالی کے ساتھ بدکاری کرنے یا اس کو شہوت کے ساتھ چھونے سے انسان کا اپنی بیوی کے ساتھ نکاح نہیں ٹوٹتا ، لیکن انسان کا اپنے رب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق ضرور ٹوٹ جاتا ہے، اور انسان اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں سے گر جاتا ہے۔ اس لیے اس گناہ سے بچنا نہایت ضروری ہے، اگر گناہ ہو گیا تو فوراً صدقِ دل سے توبہ لازم ہے۔
ہمارے مرشد محبوب العالَم حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ بعض گناہوں کی سزا عین موت کے وقت ملتی ہے اور اس گناہ کی نحوست کے اثر سے آخری وقت انسان کلمہ کی دولت سے محروم ہو جاتا ہے، کلمہ پڑھنا بھی چاہے تو بھی اس کی زبان پہ جاری نہیں ہوتا، یہ توفیق اس سے چھین لی جاتی ہے، ان گناہوں میں سے ایک گناہ زنا ہے، جو دنیا سے جاتے وقت کلمہ اور ایمان کی محرومی کا باعث بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved