- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
چند باتوں کی وضاحت مطلوب ہے، براہِ کرم راہنمائی فرما دیجیے:
(1) ایک شخص کو سانپ نے کاٹا لیکن الله تعالیٰ نے اس کی جان بچا لی ۔اب اس شخص نے بلا ٹلنے اور جان بچنے کی خوشی میں شکرانہ کے طور پر صدقہ کی نیت کی ہے کہ ایک بكرا ذبح کر کے اس کا گوشت صدقہ کرے گا، چاہے کچا گوشت بھیجے یا سالن قورمہ پکوا کر بھیجے ۔کیا گوشت یا سالن آنے کی صورت میں حسینی فاطمی سید بھی کھا سکے گا یا اس کے لیے حرام ہو گا؟(2) نیز وضاحت فرما دیجیے کہ حسینی فاطمی سادات پر کون سے صدقات حرام اور کون سے حلال ہیں ؟(3) مزید یہ کہ کیا حسنی حسینی یعنی فاطمی ہی سادات ہوتے ہیں یا کسی اور شخصیت کی آل اولاد کو بھی سادات کہہ سکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سوالات کے جوابات ترتیب وار ملاحظہ کیجیے:
(1) جی ہاں! حسنی، حسینی یعنی فاطمی خاندان کے سادات کے لیے بھی ایسے گوشت کا استعمال جائز ہے۔
(2) حسنی، حسینی یعنی فاطمی کے لیے زکوٰة اورصدقاتِ واجبہ(صدقہ فطر، نذر، مَنّت، کفارات، فوت شدہ روزوں اور نمازوں کا فدیہ) کا استعمال جائز نہیں ہے۔ البتہ نفلی صدقات کا استعمال ان کے لیے جائز ہے، نفلی صدقات کے استعمال میں امیر غریب، سید اور غیر سید سب برابر ہیں۔
(3) پہلے دور میں بنو ہاشم کے پانچوں خاندان (آلِ علی، آلِ عباس، آلِ جعفر، آلِ عقیل اور آلِ حارث بن عبد المطلب) پر “سید” کا اطلاق ہوتا تھا، ان تمام کو “سید” کہا جاتا تھا، لیکن بعد میں “سید” کا لفظ حضرت امی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے صاحبزادوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی آل اولاد کے ساتھ خاص ہو گیا، لہٰذا اب “سید” کا اطلاق صرف حسنی، حسینی خاندانوں پر ہوتا ہے۔مفسرِ کبیر امام جلال الدین عبدالرحمٰن السیوطی رحمہ اللہ (ت:911ھ) لکھتے ہیں:
” إن اسم الشريف كان يطلق في الصدر الأول على كل من كان من أهل البيت سواء كان حسنياً أم حسيناً أم علوياً من ذرية محمد ابن الحنفية وغيره من أولاد علي بن أبي طالب أم جعفرياً أم عقيلياً أم عباسياً ۔
ولهذا تجد تاريخ الحافظ الذهبي مشحوناً في التراجم بذلك يقول : الشريف العباسي ، الشريف العقيلي ، الشريف الجعفري ، الشريف الزينبي ، فلما ولي الخلفاء الفاطميون بمصر قصروا اسم الشريف على ذرية الحسن والحسين فقط فاستمر ذلك بمصر إلى الآن”۔
(الحاوی للفتاویٰ، وفیہ الرسالۃ المسمّاۃ ” العجاجۃ الزرنبیۃ فی السلالۃ الزینبیۃ” ص439)
ترجمہ:
بلا شبہ”سید” کا اطلاق پہلے دور میں ہر اُس آدمی پر ہوتا تھا جو اہلِ بیت کرام رحمہم اللہ تعالیٰ (کی اولاد میں) سے ہو، خواہ وہ حسنی ہو ،حسینی ہو ،یا علوی ہو ، محمد بن حنفیہ کی اولاد اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دیگر اولاد سے، چاہے وہ جعفری ہو، عقیلی ہو یاعباسی ہو۔
اسی وجہ سے امام حافظ شمس الدین ذھبی رحمہ اللہ کی تاریخ میں شخصیات کے احوال میں لفظ “سید” کا بہت زیادہ استعمال کیا گیا ہے، آپ کہتے ہیں : سید عباسی، سید عقیلی، سید جعفری اور سید زینبی۔ لیکن جب مصر میں فاطمی خلفاء تخت نشیں ہوئے تو انہوں نے “سید” کا لفظ فقط حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی اولاد کے لیے مختص کردیا، چناں چہ اس دور سے اب تک یہ خصوصیت قائم ہے”۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved