- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
حضرت عرض یہ ہے کہ اگر کسی انسان کی بیماری کی وجہ سے تقریباً 20، 25 دن کی نمازیں قضا ہو جائیں، پھر وہ ٹھیک ہو جائے اور ان کی قضاء کرنا چاہے تو قضاء کس طرح کرے؟ نیز ان کی نیت کا طریقہ کار کیا ہے؟اس کے ساتھ ایک سوال اور بھی ہے کہ اگر کسی سے گزشتہ عمر میں نمازیں قضا ہو گئی ہوں لیکن ان کی تعداد اس کو معلوم نہیں ہے تو اس بارے میں بھی رہنمائی فرمائیں اور اس کی نیت کے بارے میں بھی رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قضاء نمازوں کو پڑھنے کے حوالے سے چند احکام درج ذیل ہیں:
[1]: جس نماز کی قضاء پڑھنی ہو اس کی مکمل تعیین ضروری ہے۔ یعنی دن اور نماز کا متعین کرنا لازمی ہے۔ جیسے کسی شخص کی اتوار کی عصر فوت ہو گئی ہو تو اب اسے پڑھنے کے لیے یہ نیت کرنا ضروری ہے کہ میں اتوار کی عصر کی قضاء پڑھ رہا ہوں۔ تو قضاء نمازوں کی تعداد معلوم ہونے کی صورت میں انہیں مذکورہ تعیین کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔[2]: اگر کسی شخص کی کئی نمازیں قضاء ہو چکی ہوں اور ان کی حتمی تعداد کا علم نہ ہو کہ کتنی ہیں تو ضروری ہے کہ خوب غور و فکر کر کے ان کی تعیین کرے کہ اس کے ذمہ کتنی نمازیں ہیں؟ اگر حتمی تعداد معلوم نہ ہو سکے تو خوب سوچ و بچار کے بعد غالب رائے سے جو تعداد متعین ہو اسے لکھ لے۔ گزشتہ کئی مہینوں یا سالوں کی قضاء نمازیں پڑھنے کی صورت میں دن وتاریخ کی تعیین کے ساتھ نیت کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ یوں نیت کی جا سکتی ہے کہ میرے ذمے فجر کی جتنی نمازیں ہیں ان میں سے پہلی پڑھتا ہوں، جتنی ظہر کی ہیں ان میں سے پہلی پڑھتا ہوں۔ اب جو پڑھ چکیں گے تو اس سے اگلی والی نمازیں پہلی بن چکی ہوں گی۔ اسی طرح نیت یوں بھی کی جا سکتی ہے کہ میرے ذمے فجر کی جتنی نمازیں ہیں ان میں سے آخری پڑھتا ہوں، جتنی ظہر کی ہیں ان میں سے آخری پڑھتا ہوں۔ اب جو پڑھ چکیں گے تو اس سے پہلے والی نمازیں پہلی بن چکی ہوں گی۔ یوں ایک ایک کر کے اپنی تمام قضا نمازیں پڑھ لی جائیں۔
[3]: قضاء نمازیں تین مکروہ اوقات کے علاوہ ہر وقت پڑھی جا سکتی ہیں۔ وہ تین اوقات یہ ہیں:۱: سورج طلوع ہوتے وقت۲: عین زوال کے وقت۳: سورج غروب ہوتے وقت[4]: قضاء نماز؛ فجر اور عصر کی نماز کے بعد بھی پڑھی جا سکتی ہے لیکن کوشش کریں کہ لوگوں کے سامنے نہ پڑھیں۔ چونکہ فجر اور عصر کی نماز کے بعد نفل پڑھنا جائز نہیں ہے اس لیے دیکھنے والا لامحالہ یہی سمجھے گا کہ یہ شخص قضاء پڑھ رہا ہے۔ بلا عذر نماز قضاء کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔ اس لیے اپنے گناہ کو حتی الامکان کسی دوسرے پر ظاہر نہیں ہونے دینا چاہیے۔[5]: قضاء نمازیں پڑھتے وقت صرف فرض پڑھے جائیں، سنتوں کی قضاء نہیں، ہاں البتہ عشاء کے فرض کے ساتھ وتر کی قضاء بھی ضروری ہے کیونکہ وتر واجب ہیں۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرِ الْجُھَنِی رَضِيَ اللهُ عَنْهُ یَقُوْلُ: ثَلٰثُ سَاعَاتٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْھَانَا اَنْ نُصُلِّیَ فِیْھِنَّ اَوْ اَنْ نُقْبِرَ فِیْھِنَّ مَوْتَانَا ؛ حِیْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَۃً حَتّٰی تَرْتَفِعَ ، وَحِیْنَ یَقُوْمُ قَائِمُ الظَّہِیْرَۃِ حَتیّٰ تَمِیْلَ الشَّمْسُ ، وَحِیْنَ تَضَیَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوْبِ حَتّٰی تَغْرُبَ.(صحیح مسلم ج 1ص 276 الاوقات التی نھی عن الصلوۃ فیھا)ترجمہ: حضرت عقبہ بن عامرجہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین اوقات میں نماز پڑھنے یا مردوں کو دفن کرنے سے منع فرمایا ہے ؛ جب سورج طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہو جائے ، عین زوال کے وقت جب تک کہ سورج ڈھل جائے اور جب سورج غروب کے قریب ہو یہاں تک کہ غروب ہو جائے ۔
علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی (ت1252ھ) علامہ حصکفی کے قول ”كثرة الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره“ (کہ اگر کسی بندے کی کئی نمازیں قضاء ہو جائیں تو انہیں پڑھتے ہوئے پہلی یا آخری نماز کی نیت کریں) کی شرح میں لکھتے ہیں:
قوله ( كثرت الفوائت الخ ) مثاله لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين لأن فجر الخميس مثلا غير فجر الجمعة فإن أراد تسهيل الأمر يقول أول فجر مثلا فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولا أو يقول آخر فجر فإن ما قبله يصير آخرا ولا يضره عكس الترتيب لسقوطه بكثرة الفوائت.(رد المحتار حاشیۃ الدر المختار: ج2 ص76)ترجمہ:اس کی مثال یوں ہے کہ ایک بندے کی جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کی نمازیں قضا ہو گئیں تو اب انہیں پڑھنے کے لیے تعیین کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ جمعرات کی جو فجر ہے وہ جمعہ کی فجر کا غیر ہے۔ ہاں بندہ آسانی کی خاطر یوں کہہ سکتا ہےکہ میں پہلی فجر کی نماز پڑھ رہا ہوں۔ اب یہ فجر پڑھنے کی صورت میں اس کے بعد والی فجر؛ پہلی فجر ہو جائے گی۔ یا یوں بھی کہہ سکتا ہے کہ میں آخری فجر کی نماز پڑھ رہا ہوں۔ اب یہ فجر پڑھنے کی صورت میں اس سے پہلے والی فجر؛ آخری فجر ہو جائے گی۔ ترتیب جو بھی اختیار کی جائے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ جب کئی نمازیں فوت ہو جائیں تو ترتیب قائم رکھنا ضروری نہیں۔
علامہ زین الدین بن ابراہیم بن محمد المعروف ابن نجیم الحنفی (ت970ھ) لکھتے ہیں:
إنَّمَا تُقْضَى الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْوِتْرُ.(البحر الرائق لابن نجیم: ج2 ص86 قضاء الفوائت)ترجمہ: قضاء نمازوں کے صرف فرائض اور وتر پڑھے جائیں گے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved