- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک دوست کی زبانی یہ ساری کارگزاری ہے کہمیں ہر وقت پریشان رہتا ہوں ، دلی سکون نہیں ہے ، معاشی حالات بھی بہت اچھے ہیں، اپنے مستقبل کی بھی فکر نہیں ہے،صوم و صلوٰة یہاں تک کہ تہجد کا بھی پابند ہوں ، گھر میں بھی سب نماز کی پابندی کرتے ہیں، کبھی کوئی گانا یا فلم نہیں دیکھی، کبھی کوئی ایسی غلط حرکت کا خیال نہیں آیا ، غیر محرم پہ نظر ڈالنے سے بھی بچتا ہوں ۔نماز بھی پوری توجہ اور دھیان سے پڑھتا ہوں ، لیکن اس سب کے باوجود میں اپنے اعمال سے مطمئن نہیں ہوں، مختصر یہ کہ دلی سکون نہیں ، ہر وقت دل پر بوجھ بوجھ سا محسوس رہتا ہے۔ کوئی وظیفہ یہ کوئی عمل ایسا بتلا دیں کہ یہ سب ختم ہو جائے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اپنے دوست سے کہیں کہ اگر وہ کسی متبع سنت مرشد سے بیعت ہے تو اپنے احوال ان کی خدمت میں پیش کرے، اگر بیعت نہیں ہے تو اس کی ترتیب بنائے۔یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ ہم اس بات کے پابند ہیں کہ اوامر پر عمل اور نواہی سے اجتناب کریں، دل چاہے یا نہ چاہے، مزا آئے یا نہ آئے، ہم نے ہر حال میں نیک اعمال کو بجا لانا ہے اور برے اعمال سے خود کو بچانا ہے۔ اعمال میں حکم پر عمل کرنا ہی مقصود ہوتا ہے، اس میں کیفیات کا حصول مقصود نہیں ہوتا۔ لذت و سرور کی کیفیت نہ بھی ملے تب بھی اعمال پابندی سے کرتے رہنا ضروری ہے۔ ہاں اگر عبادات میں لذت و سرور کی کیفیت میسر ہوتو بہرحال یہ ایک اچھی چیز ہے، کیوں کہ یہ کیفیت رغبت و شوق کے ساتھ حکم بجا لانے کا باعث بنتی ہے۔آپ ماشاء اللہ جن اعمال پر کاربند ہیں ان کو مستقل بنیاد پر اپنی زندگی کا معمول بنائے رکھیں، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا استحضار کر کے ہر ہر نعمت کا شکر ادا کریں، اپنے اکابرین کی سوانح کا مطالعہ کریں، تیسرا کلمہ اور درودِ پاک کا ورد اپنا معمول بنا لیں، اپنے آپ کو غیر ضروری باتوں اور فرضی خیالات اور توہمات سے دور رکھیں ، ان شاء اللہ رفتہ رفتہ طبیعت معمول پر آ جائے گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved