- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ کیا درود شریف کے فضائل میں ایسے الفاظ جن کا ترجمہ یہ ہےعام اوقات میں اگر بندہ کوئی نیکی کرتا ہے تو دائیں جانب والا فرشتہ نیکیاں لکھتا ہےاور اگر کوئی برائی کرتا ہے تو بائیں جانب والا فرشتہ برائیاں لکھتا ہے۔لیکن درود شریف ایسی عبادت ہے کہ اس کے پڑھنے سے دونوں فرشتے حرکت میں آ جاتے ہیں۔دائیں جانب والا نیکیاں لکھنا شروع کر دیتا ہے اور بائیں جانب والا برائیاں مٹانے لگ جاتا ہے۔کیایہ احادیث کی کتب میں سے ثابت ہیں؟اگرچہ ضعیف روایات میں ہی کیوں نہ ہو۔ عربی عبارت کے ساتھ رہنمائی فرما دیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
تلاش و بسیار کے باوجود اس مفہوم کی روایت نہ مل سکی البتہ درود شریف کے فضائل میں یہ موجود ہے کہ اس کے پڑھنے والے پر رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور گناہ معاف ہوتے ہیں۔حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحَطَّ عَنْهُ عَشْرَ خَطِيئَاتٍمسند احمد۔رقم الحدیث: 11560ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا، اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے دس گناہ معاف فرمائے گا۔حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ قَامَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ، اذْكُرُوا اللَّهَ جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ ، قَالَ أُبَيٌّ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلَاتِي ؟ فَقَالَ: مَا شِئْتَ ، قَالَ: قُلْتُ: الرُّبُعَ ؟ قَالَ: مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ، قُلْتُ: النِّصْفَ ؟ قَالَ: مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ، قَالَ: قُلْتُ: فَالثُّلُثَيْنِ ؟ قَالَ: مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ، قُلْتُ: أَجْعَلُ لَكَ صَلَاتِي كُلَّهَا، قَالَ: إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.جامع ترمذی۔کتاب القیامہ،رقم الحدیث: 2457ترجمہ: حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ جب دو تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ صلی الہ علیہ و سلم اٹھتے اور فرماتے: لوگو! اللہ کو یاد کرو، اللہ کو یاد کرو، کھڑکھڑانے والی آ گئی ہے اور اس کے ساتھ ایک دوسری آ لگی ہے، موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے۔ موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ پر بہت صلاۃ (درود) پڑھا کرتا ہوں سو اپنے وظیفے میں آپ پر درود پڑھنے کے لیے کتنا وقت مقرر کرلوں؟ آپ نے فرمایا: جتنا تم چاہو ، میں نے عرض کیا چوتھائی؟ آپ نے فرمایا: جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے ، میں نے عرض کیا: آدھا؟ آپ نے فرمایا: جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا دو تہائی؟ آپ نے فرمایا: جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا: وظیفے میں پوری رات آپ پر درود پڑھا کروں؟۔ آپ نے فرمایا: اب یہ درود تمہارے سب غموں کے لیے کافی ہوگا اور اس سے تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
ان احادیث کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ دورد شریف پڑھتے ہوئے دونوں فرشتے حرکت میں ہوتے ہیں کہ نیک اعمال والا ثواب لکھتا ہے اور دوسرا فرشتہ گناہ مٹاتا ہے ۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved