- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عشاء کی نماز میں آخر کی دو نفل نماز وتر کی نماز سے پہلے پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم کی حدیث مبارک میں آتا ہے کہ اپنی آخری نماز وتر کی نماز کو بناؤ ¬ کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ایسا کرنا درست ہے البتہ وتر کی نماز کے بعد اگر دو رکعت پڑھ لیے جائیں تو وہ ممنوع بھی نہیں کیونکہ شارحینِ حدیث نے اس روایت کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ فرض و واجب نمازوں میں سے آخری نماز وتر کی نماز ہو۔ وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا اس حکم کے منافی نہیں بلکہ یہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
كان يصلي ثلاث عشرة ركعة يصلي ثمان ركعات ثم يوتر ثم يصلي ركعتين وهو جالس۔
(صحیح مسلم: رقم الحدیث 738)
ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم (رات کو)تیرہ رکعات پڑھتے تھے۔ پہلے آٹھ رکعت پڑھتے، پھر (تین رکعت) وتر پڑھتے، پھر بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved