• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

وراثتی زمین کی تقسیم کے کئی سال بعد؛ تبادلہ کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟

استفتاء

والد صاحب کے فوت ہونے کے بعد چار بھائیوں نے آپس میں زمین تقسیم کی اور ہر ایک کے حصے میں جو جگہ آئی اس نے آباد کر لی اور قبضہ کر لیا، ہر بھائی کو اپنے حصے پر قبضہ اور تصرف کیے ہوئے پندرہ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن اب ایک بھائی دوسرے بھائی کو کہتا ہے کہ آپ کے حصے میں جو زمین آئی ہے وہ میرے گھر کے سامنے ہے، اس لیے مجھے یہ پہلے والی تقسیم منظور نہیں ہے،آپ مجھے اپنے حصے والی زمین دے دو اور میرے حصہ والی لے لو، یعنی میرے ساتھ زمین کا تبادلہ کرو ، جبکہ دوسرے بھائی نے انکار کر دیا ہے اور اس جگہ پر اس نے پانی بھی نکالا ہوا ہے البتہ کاغذی کاروائی مکمل نہیں ہے الگ الگ نقشہ نہیں لگا ہوا تو ایسی صورت میں ایک بھائی کا دوسرے بھائی سے جبراً زمین کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟2: اپنے کسی بھائی کو زمین کے تبادلے پر مجبور کرنے والے کے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ترکہ کی تقسیم اگر باہمی رضامندی سے ہو جائے اور فریقین اپنے اپنے حصوں پر قبضہ و تصرف کر لیں تو شرعی طور پر وہ تقسیم مکمل اور نافذ ہو جاتی ہے۔ قبضہ کے بعد ایسی تقسیم کو کالعدم قرار دینا یا اس میں تبدیلی کا مطالبہ شرعاً درست اور قابلِ قبول نہیں ہوتا، خواہ اس پر کاغذی کاررِوائی اور سرکاری اندراج نہ بھی ہوا ہو۔ تقسیم کا تعلق قبضہ سے ہے جب کہ کاغذی کاررِوائی تملیک اور قانونی ثبوت سے متعلق ہے، لہٰذا کاغذی کاررِوائی کا نہ ہونا تقسیم کے صحیح و نافذ ہونے میں مانع نہیں۔[2]: وہ بھائی جو ؛ اَب تبادلے پر اصرار کر رہا ہے، ان کا مطالبہ شرعاً درست نہیں ہے۔ انہیں چاہیے کہ اپنے اس غیر شرعی مطالبے سے دستبردار ہو جائے اور پہلی تقسیم کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے اسی حصے میں تصرف کرے۔ اگر انہیں اپنے حصے پر کوئی اعتراض تھا تو یہ اعتراض تقسیم کے وقت اٹھایا جانا چاہیے تھا، اب پندرہ سال کے بعد جب کہ سب وارث اپنے اپنے حصوں میں تصرف کر رہے ہیں، اس تقسیم پر سوال اٹھانا اور کسی وارث کو اپنے حصہ کے ساتھ تبادلہ پر مجبور کرنا جائز نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved