• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

نکاح کے گواہ لڑکے کی طرف سے ہوں گے یا لڑکی کی طرف سے؟

استفتاء

نکاح میں شرعاً گواہ کون بن سکتے ہیں اور کون گواہ نہیں بن سکتے ؟2: گواہ لڑکے کی طرف سے ہوں گے یا لڑکی کی طرف سے؟اس کی وضاحت فرما دیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

نکاح کے صحیح ہونے کے لیے شرط ہے کہ ایجاب و قبول کم از کم ایسے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کے سامنے کیا جائے جو مسلمان عاقل بالغ ہوں۔ چنانچہ :
 اگر کسی شخص نے بغیر گواہوں کے تنہائی میں ایجاب کیا اور دوسرے نے قبول کیا تو یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔ 
 اگر ایجاب و قبول کے وقت صرف ایک گواہ موجود ہو تب بھی نکاح نہیں ہوتا۔ 
 اگر گواہوں میں کوئی مرد نہ ہو، صرف عورتیں ہی عورتیں ہوں چاہے چار سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں تو بھی نکاح نہیں ہوتا۔ 
 گواہ تو دو مرد ہوں لیکن مسلمان نہ ہوں یا مسلمان ہوں لیکن نابالغ ہوں یا ایک بالغ اور دوسرا نا بالغ ہو تو بھی نکاح صحیح نہیں ہوتا۔
خلاصہ یہ کہ  :
• دو گواہ ہوں۔ صرف ایک مرد گواہ نہیں بن سکتا۔ 
• دو نوں گواہ  مسلمان ہوں۔ کافر گواہ نہیں بن سکتا۔ 
• دونوں  مرد ہوں ، یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں۔ مرد کے بغیر صرف عورتیں گواہ نہیں بن سکتیں۔ 
• دونوں  عاقل ہوں۔ مجنون / دیوانہ/ پاگل گواہ نہیں بن سکتا۔ 
• دونوں  بالغ ہوں۔ نابالغ  گواہ نہیں بن سکتا۔ 
[2]: شرعاً نکاح کے صحیح ہونے کے لیے  دو گواہوں کا ہونا شرط ہے۔ وہ  دونوں گواہ لڑکے کی طرف سے ہوں یا  دونوں لڑکی کی طرف سے ہوں ، یا ایک ایک دونوں جانب سے ہو یا  دونوں غیر جانب دار ہوں، ان تمام صورتوں میں نکاح درست ہوجاتا ہے۔ 
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved