- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
صحیح مسلم کی حدیث ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، مگر تین عمل؛ صدقہ جاریہ ، علم جس سے فائدہ اٹھایا جارہا ہو اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے۔اشکال یہ تھا کہ مخالف کہتا ہے: اس حدیث میں ہے کہ صرف تین ذریعہ سے ہی مردہ تک ثواب پہنچ سکتا ہےتو اگر کوئی اپنے مرحومین رشتہ داروں کے لیے ایصالِ ثواب کرے تو قبول نہیں ہوگا سوائے اس کے بیٹے کے۔ اس کی وضاحت فرما دیجیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
دوباتیں الگ الگ ہیں ، ان دونوں میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک ہے ذاتی عمل کا منقطع ہو جانا اور دوسرا ہے کسی دوسرے شخص کی طرف سے ثواب کا نفع ملنا یا نہ ملنا۔سوال میں جس حدیث پاک کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں صرف پہلی بات کو ذکر کیا گیا ہے، دوسری بات کا ذکر اس میں موجود نہیں ہے۔اس حدیث پاک کا درست مطلب یہ ہے کہ موت کی وجہ سے میت کا ذاتی عمل ختم ہوگیا، وہ خود کوئی نیا عمل نہیں کرسکتا۔ البتہ یہ تین اعمال (صدقہ جاریہ، علم نافع اور نیک اولاد)ایسے ہیں جو دراصل میت کے اپنے ذاتی عمل کا نتیجہ اور اثر ہیں، اس لیے مرنے کے بعد بھی میت کے حق میں اپنے ان اعمال کا اثر جاری رہتا ہے۔اس حدیث پاک میں صرف اسی مفہوم کو واضح کیا گیا ہے۔باقی ایصالِ ثواب کے ان تینوں ذرائع کے علاوہ دیگر ذرائع کی نفی اسی طرح اولاد کے علاوہ دیگر افراد کی طرف سے ایصالِ ثواب کی نفی اس حدیث میں نہیں کی گئی۔دوسرے لوگوں کی طرف سے میت کو ایصالِ ثواب کرنا یہ ایک الگ باب ہے، اس کا جواز دوسری مستقل نصوص سے واضح طور پر ثابت ہے، اس پر مستقل دلائل موجود ہیں۔اس لیے دونوں چیزیں اپنے اپنے مقام میں الگ حیثیت رکھتی ہیں ، ایک کی وجہ سے دوسری چیز کا انکار جائز نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved