• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

والدین کے پاؤں چھونے اور تعظیمی طور پر جھکنے کا شرعی حکم

استفتاء

تعظیمی طور پر جھکنے اور پاؤں کو ہاتھ لگانے سے پہلے مسئلہ یاد آ گیا ہے ۔ ہمارے علاقے میں لوگ جب اپنے والدین کو سلام کرتے ہیں تو وہ پہلے اپنے والدین کے پاؤں کو ہاتھ لگاتے اور پھر گلے ملتے ہیں ۔خاص کر وہ لوگ جو آوٹ سٹی یا ملک میں ملازمت کرتے ہیں یا پھر عید وغیرہ کے خوشی کے مواقع پر ملتے وقت پاؤں کو ہاتھ لگایا جاتا ہیں لیکن والدین کی اس طرح تعظیم کرنا درست ہیں ؟وضاحت فرمائے ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

شریعتِ اسلامیہ میں والدین کی خدمت اور ان کا ادب و احترام واجب ہے، تاہم اس تعظیم کے لیے بھی حدود مقرر ہیں۔ ملاقات کے وقت مسنون طریقہ یہ ہے کہ زبان سے سلام کیا جائے اور پھر مصافحہ یا معانقہ (گلے ملنا) کیا جائے۔ جہاں تک والدین کے پاؤں کو ہاتھ لگانے یا ان کا بوسہ لینے کا تعلق ہے، تو محبت اور عقیدت کی بنا پر قدم بوسی شرعاً جائز ہے۔اس عمل میں بنیادی شرط یہ ہے کہ پاؤں چھوتے یا چومتے وقت رکوع یا سجدے کی ہیئت نہ بنے۔ اگر پاؤں کو ہاتھ لگانے کے لیے اس حد تک جھکنا پڑے کہ وہ رکوع کی مشابہت اختیار کر لے (یعنی اتنا جھکنا کہ ہاتھ آسانی سے گھٹنوں تک پہنچ سکیں)، تو ایسا کرنا مکروہِ تحریمی اور ناجائز ہے۔ اس سے بچنے کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ والدین کسی اونچی جگہ (جیسے کرسی یا چارپائی) پر بیٹھے ہوں اور اولاد نیچے بیٹھ کر رکوع کی ہیئت بنائے بغیر ان کے پاؤں کو چھو لے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔خلاصہ یہ کہ والدین کی محبت میں ان کے پاؤں چھونا بذاتِ خود منع نہیں، لیکن تعظیمی طور پر رکوع کی حد تک جھکنا ممنوع ہے۔ نیز، طویل عرصے بعد یا عید جیسے مواقع پر والدین سے گلے ملنا (معانقہ کرنا) سنت و احادیث سے ثابت اور جائز عمل ہے۔ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ مسنون طریقے یعنی سلام اور مصافحے پر اکتفا کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی غیر شرعی ہیئت سے بچا جا سکے۔واللہ اعلم باالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved