• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مشترکہ طور پر خریدی گئی بکری کے بچوں کی تقسیم کا حکم

استفتاء

عمراوربکر نے مل کر ایک بکری خریدی پچاس ہزار کی پچیس ہزارعمرنے دیے اورپچیس بکر نے اور طے یہ ہوا کہ عمر اس بکری کی دیکھ بھال چارہ وغیرہ ڈالے گا اب پوچھنا یہ ہے کہ اس میں سے جو نفع یعنی وہ بکری جو بچے دے گی جب انکو بیچا جاییگا تو وہ کس طرح تقسیم کریں گے آدھے آدھے یا کوئ اور صورت ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جب دو افراد برابر رقم ملا کر کوئی جانور خریدیں تو وہ دونوں اس جانور میں برابر کے مالک شمار ہوتے ہیں۔ اس صورت میں بکری سے پیدا ہونے والے تمام بچے اور دیگر منافع بھی دونوں شریکوں کے درمیان ان کی سرمایہ کاری کے تناسب سے آدھے آدھے تقسیم ہوں گے۔ شریعت کے مطابق یہ طے کرنا درست نہیں کہ ایک بچہ ایک کا ہوگا اور دوسرا دوسرے کا بلکہ پیدا ہونے والے ہر ہر بچے میں دونوں برابر کے شریک ہوں گے۔جہاں تک عمر کی دیکھ بھال اور چارے کے اخراجات کا تعلق ہے تو چونکہ بکری دونوں کی مشترکہ ملکیت ہے، اس لیے اس کے چارے اور علاج وغیرہ کا خرچ بھی دونوں پر ان کے حصے کے مطابق آدھا آدھا آئے گا۔ عمر جو محنت اور دیکھ بھال کر رہا ہے، وہ اس محنت کے بدلے دوسرے شریک (بکر) سے اس کے حصے کی حد تک مناسب اجرت لینے کا حق رکھتا ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved