- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
پوچھنا یہ ہے کہ ہم مسجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں جب امام نماز پڑھا لیتا ہے تو اس کے بعد سارے نمازی امام کو سلام کرتے ہیں ۔ جو اس مدرسے میں بچے پڑھتے ہیں وہ سارے بچے امام کو اس طرح سلام کرتے ہیں۔ سب سے پہلے امام کے پاؤں پہ ہاتھ رکھتے ہیں، پھر گھٹنوں پہ ہاتھ دیتے ہیں ، پھر اس کے بعد امام کو سلام کرتے ہیں یعنی ہاتھ ملاتے ہیں۔کیا ایسا کرنا شرک کے زمرے میں آتا ہے؟اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟اور ہم اس امام کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے اور اپنی نماز اکیلے پڑھتے ہیں ۔ ایسا کرنا صحیح ہے یا پھر ہم امام کے ساتھ ہی نماز ادا کریں۔ اسی امام کے پیچھے نماز ہو جائے گی یا نہیں؟تفصیل سے آگاہ کیجئے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اسلامی تعلیمات کے مطابق ملاقات کے وقت سلام کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ زبان سے “السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ” کہا جائے اور سنت کی تکمیل کے لیے مصافحہ (ہاتھ ملانا) کیا جائے۔ کسی بزرگ، استاد یا امام کو سلام کرتے وقت ان کے سامنے تعظیمی طور پر اس حد تک جھکنا کہ وہ رکوع کی مشابہت اختیار کر لے، شرعاً ناجائز اور مکروہِ تحریمی ہے۔ رکوع کی حد سے مراد یہ ہے کہ انسان اتنا جھک جائے کہ اگر وہ اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھنا چاہے تو آسانی سے رکھ سکے۔امام کے پاؤں یا گھٹنوں کو ہاتھ لگانا سنت سے ثابت نہیں ہے اور اس طرزِ عمل سے بچنا ضروری ہے۔ جہاں تک شرک کا تعلق ہے، تو اگر یہ عمل محض احترام اور تعظیم کی نیت سے کیا جائے تو یہ گناہِ کبیرہ اور بدعت ہے، اسے شرک یا کفر نہیں کہا جائے گا۔ البتہ اگر کوئی شخص (نعوذ باللہ) عبادت کی نیت سے کسی کے سامنے جھکے تو یہ شرک کے زمرے میں آ سکتا ہے، لیکن عام طور پر مسلمانوں کا مقصد صرف حد سے بڑھی ہوئی غلط عقیدت ہوتی ہے۔اس غیر شرعی طریقے سے سلام کرنے کی وجہ سے امام کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز نہیں ہوتا اور نماز ادا ہو جاتی ہے۔ آپ کے لیے درست عمل یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ ہی نماز ادا کریں، کیونکہ بلاوجہ جماعت چھوڑ کر اکیلے نماز پڑھنا پسندیدہ نہیں ہے۔ تاہم، امام صاحب کو چاہیے کہ وہ بچوں کی صحیح تربیت کریں اور انہیں اس ممنوعہ طریقے سے روک کر مسنون طریقے (سلام و مصافحہ) کی تلقین کریں۔نیز امام صاحب کے لیے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ لوگوں سے اپنے لیے ایسی تعظیم کی خواہش رکھیں، کیونکہ یہ تکبر کی علامت ہے۔ہاں اگر امام صاحب کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کی کوئی اور وجہ ہے تو وہ واضح کریں، اس کو ملاحظہ کر کے ہی کچھ کہا جا سکے گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved