• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

اسلامی بینک میں ملازمت کرنے کا شرعی حکم؟

استفتاء

میزان بینک میں جاب کرنا کیسا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

شریعتِ اسلامیہ میں سود (ربا) حرامِ قطعی ہےاس لیے ایسے ادارے میں ملازمت کرنا جس کا بنیادی نظام سود پر قائم ہو، اصولاً جائز نہیں۔البتہ موجودہ دور میں جو اسلامی بینکنگ کے نام سے ادارے قائم ہیں، ان کے بارے میں تفصیلی حکم یہ ہے کہ اگر1: کسی بینک میں واقعی باقاعدہ شرعی (شریعہ) بورڈ موجود ہو۔2: جس میں مستند اور معروف مفتیانِ کرام شامل ہوں۔3: وہ بورڈ بینک کے معاملات، معاہدات اور پروڈکٹس کی نگرانی کرتا ہو۔4: بینک کی پالیسی اور عملی معاملات سودی نظام سے بچانے کی پوری کوشش کی جاتی ہو۔تو ایسے بینک میں ملازمت کرنا اصولاً جائز ہے۔تاہم اگر کسی بینک میں عملی سطح پر بعض ایسے معاملات پائے جاتے ہوں جہاں شرعی اصولوں کی مکمل رعایت نہیں ہو پاتی تو ایسے بینک میں ملازمت کرنا جائز نہ ہو گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved