• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

امّ ایمن کون تھیں؟ کیا یہ نام رکھنا درست ہے؟

استفتاء

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی حالات میں امِّ ایمن نامی ایک خاتون کا تذکرہ آتا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ یہ کون تھیں اور ان کے نام پہ اپنی بچی کا نام رکھا جا سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سیدہ امِّ ایمن رضی اللہ عنہا کا نام”برکہ“اور کنیت”ام ایمن“ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا حبشہ کی رہنے والی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد محترم جناب عبد اللہ کی کنیز تھیں۔ حضرت عبداللہ کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والد ہ ماجدہ حضرت آمنہ سے منسلک ہوئیں ۔ جب حضرت آمنہ کی بھی وفات ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہنے لگیں ، چونکہ ام ایمن رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد اور والدہ کی کنیز تھیں، مزید یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ ان کے سامنے ہوئی تھی،اس لیے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی تربیت اور پرورش کا شرف بھی حاصل تھا۔سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے ابتداءً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اسلام کوقبول فرمایا۔ قبول اسلام کے بعد انتہائی مشکلات اور مصائب سے دو چار بھی ہوئیں ، آپ رضی اللہ عنہا نے حبشہ کی طرف ہجرت بھی فرمائی۔ حبشہ سے واپس آئیں اور جب مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم ملا تو سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت بھی کی ۔سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت عزت فرماتے ، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری والدہ کے بعد اُمِّ ایمن میری والدہ ہیں ۔ایک دوسرے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اُمِّ ایمن میرے خاندان کی باقیات میں سے ہیں۔سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح حضرت عبید بن زید رضی اللہ عنہ سے ہوا جو حارث بن خزرج کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت عبید بن زید رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے اور جنگ حنین میں شہادت پائی۔ان کی شہادت کے بعد حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے عقد میں آئیں۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی والدہ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہاہی ہیں ۔ چونکہ آپ صحابیہ ہیں اس لئے آپ کے نام پر اپنی بچیوں کے نام رکھنا نہ صرف جائز ہے بلکہ مستحسن اور اچھا ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved