- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
تقریباً اڑھائی سال سے آپ سے مسئلہ پوچھنا چاہ رہی تھی کہ نشہ شراب کی حالت میں شوہر بیوی کے قریب آنا چاہے تو بیوی کے لیے کیا حکم ہے؟دراصل میرا موبائل روزانہ شوہر کے ہاتھ میں بھی جاتا ہے اورمیرے موبائل کا نصف سے زائد کنٹرول ان کے موبائل سے کنیکٹ ہے اس لئے نہیں پوچھ سکی اور یہی سوچ کر خاموش رہی کہ ”ام الخبائث“ کے عادی ہونے کی وجہ سے اگر مجھ سے ضرورت پوری نہ ہو تو ”العیاذ باللہ“ وہ کہیں گناہ کا ارتکاب نہ کر بیٹھے ، جیساکہ آج جگہ جگہ ہوٹل کھلے ہیں اور اکثر عورتیں کہ ”ھیت لک“ پکارتی ہیں، العیاذ باللہ ۔لیکن اب وہ حد سے زیادہ پی رہے ہیں اور مختلف انواع و اقسام کی پیتے ہیں، ان کے قریب آتے ہی یا کمرے میں جاتے ہی میرا دم گھٹنے لگتا ہے اور متلی اور قے آنے لگتی ہے اور بتاتے ہوئے شرم آرہی ہے لیکن مجبور ہوں۔اور وہ نشے میں اتنی وحشیانہ حرکتیں کرتے ہیں کہ انہیں خود نہیں پتہ ہوتا؛ کاٹتے نوچتے مار پیٹ بال کھینچنا اور کیا ہی بتاؤں اور کبھی تو خوف آتا ہے کہ العیاذ باللہ وہ مدہوشی میں میری جان نہ لے لے۔تو اب ان سے دور دور رہ رہی ہوں کبھی کبھی آٹھ آٹھ دن صبح سے شام تک نشہ میں ہر گھنٹے آدھے گھنٹے بعد چند گھونٹ اور پھر اب اس طرح کبھی کبھی دس دس دن ہم میں فاصلہ رہتا ہے وہ بلاتے ہیں، لیکن مجھے کافی دشواریوں کی وجہ سے ان سے دور رہنا پڑتا ہے۔آپ ہی بتائیں کیا کروں؟ کیا شریعت کی نظر میں گنہگار ہوں گی؟ مزید ایک گزارش کہ شوہر کی شراب چھڑانے کے لئے کوئی نسخہ، وظیفہ، ترتیب یا حکمت عملی بتا دیں۔براہِ کرم جواب عنایت فرمائیں ، عین نوازش ہوگی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[1]: جو صورتِ حال آپ نے لکھی ہے، یہ انتہائی قابلِ تشویش اور قابلِ رحم ہے۔ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ کریم آپ کے شوہر کو ہدایت عطا فرمائے تاکہ وہ اس حرام کام سے سچی توبہ کر لے اور اپنی ازدواجی زندگی کو خوش گوار بنا سکے، آمین۔نشہ کی حالت میں اپنے شوہر کی طرف سے آپ کو جس ذہنی و جسمانی اذیت ناک مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، اس حالت میں آپ انکار کر سکتی ہیں، یہ انکار کرنا وعید میں داخل نہیں ہو گا۔[2]: نشہ کی لعنت سے بچاؤ کے دو ذریعے ہیں، پہلا دعا ، دوسرا ؛دَوا۔ روزانہ دو رکعت صلوٰۃ الحاجۃ پڑھ کر خوب دعا کیا کریں، اگر ہو سکے تو ان الفاظ سے دعا کا اہتمام کریں ۔o يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلُوْبَنَا عَلَى طَاعَتِكَترجمہ: اے دلوں کو پھیرنے والے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر ثابت اور قائم رکھ۔ اپنے قریبی محرم رشتہ داروں (بھائی، چچا ، ماموں وغیرہ) میں سے قابلِ اعتماد اور معاملہ فہم شخص کے ذمہ لگائیں کہ وہ اس کو سمجھائے تاکہ وقتی طور پر چھوڑ دےاور ساتھ میں اس کے علاج کا انتظام بھی کرے تاکہ مستقل چھوٹ جائے۔ یہ عادت پختہ ہو چکی ہے، علاج کے بغیر نہ چھوٹ پائے گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved