• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

سنتِ عادت اور سنتِ عبادت سے کیا مراد ہے؟

استفتاء

سنت عادت اور سنت عبادت کسے کہتے ہیں؟ اس کی وضاحت مطلوب ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سنت کی دو قسمیں ہیں:[1]: سنتِ عبادت [2]: سنتِ عادتسنتِ عبادت :آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ افعال ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کے طور پر اور ثواب کے لیے سرانجام دیے۔مثال:امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ (ت256ھ) روایت نقل کرتے ہیں:عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ.صحیح البخاری: رقم الحدیث 1182
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔سنتِ عادت:آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ افعال ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت اور عادت کے پیشِ نظر انجام دیے۔مثال: مسواک کرناامام ابو الحسن مسلم بن حجاج القشیری النیشاپوری رحمہ اللہ (ت 261ھ) روایت نقل کرتے ہیں:عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ قُلْتُ: بِأَىِّ شَىْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِىُّ – صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ – إِذَا دَخَلَ بَيْتَهٗ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ.صحیح مسلم: رقم الحدیث 253
ترجمہ: حضرت شریح بن ہانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے کیا کام کرتے تھے؟ تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک فرماتے تھے۔فائدہ: ہم سنتِ عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے اور سنتِ عادت بھی اسی لیے اپناتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ اس لیے اگر کسی شخص کو طبعی طور پر ان چیزوں کی ضرورت نہ بھی ہو تب بھی سرانجام دینے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ سنتِ عادت پر بھی ثواب عطا فرمائیں گے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved