- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک صاحب جن کا نام محمد ممتاز ہے انہوں نے شراب کے نشہ میں اپنے برادر نسبتی (سالا) محمد اعجاز کو فون کر کے کچھ گالم گلوچ کیں پھر اپنے سالا محمد اعجاز کو کہا کہ میں آپ کی بہن کو طلاق دیتا ہوں اور طلاق کا لفظ تین مرتبہ دہرایا ۔پھر اگلے دن صبح کو اپنے دوسرے سالا محمد اسلم کو فون کر کے کہا میں تمہاری بہن کو تین طلاقیں دیتا ہوں۔پھر کچھ دن کے بعد وہ لڑکا محمد ممتاز مدرسہ حنفیہ میں آ کر اس بات کا اقرار کیا کہ میں نے تین طلاقیں دے دی تھیں۔محمد اسلم لڑکی کا بھائی ہے وہ اب اپنی بہن کا کسی اور جگہ نکاح کرنا چاہتا ہے اور لڑکا محمد ممتاز یہ لکھ کر نہیں دیتا کہ میں طلاق دی ہے جبکہ محمد ممتاز نے اپنے سالا محمد اعجاز کو بھی کہا اور اپنے سالا محمد اسلم کو بھی کہا اور مدرسہ حنفیہ میں آ کر دو گواہوں کی موجودگی میں اقرار بھی کیا اب میری بہن کو طلاق ہو گئی ہے کہ نہیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سائل کی ہمشیرہ کو اس کے شوہر کی طرف سے دی جانے والی تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اب وہ اپنے شوہر پر مکمل حرام ہو چکی ہے۔جس دن سے طلاقیں ہوئی ہیں اس کے بعد سے تین ماہواری عدت گزارنے کے بعد اگر ماہواری نہ ہو تو تین ماہ مکمل کرنے کے بعد اس کا نکاح دوسری جگہ کیا جا سکتا ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved