• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

”پہلے ایمان پھر قرآن“ کا مفہوم

استفتاء

ایک روایت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا یہ قول منقول ہے :تعلمنا الایمان ثم تعلمنا القرآن(المستدرک علی الصحیحین جلد 1 ص 135)ترجمہ: ہم نے پہلے ایمان سیکھا اس کے بعد قرآن سیکھااس روایت کا مفہوم سمجھ نہیں آرہاہے ۔ ادبا ًیہ عاجز گزارش کرتاہے کہ حسب موقع وضاحت بیان کرکے مہربانی فرمائیں۔ (یہ حوالہ انٹرنیٹ سے لیا ہے عاجز کے پاس کتاب نہ ہونے کی وجہ سے )

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول سے اس مضمون کی روایت ابن ماجہ (رقم :61 ، باب فی الایمان ) میں بھی آئی ہے،شراحِ حدیث نے اس روایت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ قرآن کریم اور فقہ سے پہلے عقائد اور ضروری مسائل کی تعلیم دی جانی چاہئےامام الحافظ جلال الدین السیوطی رحمتہ اللہ علیہ(م 911) فرماتے ہیںاستفید منہ أن تعلّم علم العقائد قبل تعلم الفقہ والقرآن(شرح سنن ابن ماجہ للسیوطي تحت الحدیث المذکور)
ترجمہ:اس روایت سے معلوم ہوا کہ عقائد کا سیکھنا یہ فقہ(مسائل) اور قرآن سیکھنے سے زیادہ ضروری ہےقرآن سیکھنے کا مطلب حفظ قرآن ہے، قرآنی احکام ومطالب کا سیکھنا مراد نہیں ہے کیونکہ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم قرآن مجید حفظ کرنے سے پہلے احکامات کو سیکھا کرتے تھےعلامہ ابن عبد البر مالکی(م 463ھ) اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیںوکان الصحابة رضي اللہ عنہم وہم الذین خوطبوا بہذا الخطاب لم یکن منہم من حفظ القرآن کلہ ویکملہ علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إلا قلیل منہم أبي بن کعب وزید بن ثابت ومعاذ بن جبل وأبوزید الأنصاري وعبد اللہ بن مسعود، وکلہم کان یقف علی معانیہ ومعاني ما حفظ منہ ویعرف تأویلہ ویحفظ أحکامہ، وربما عرف العارف منہم أحکاما من القرآن کثیرة وہو لم یحفظ سورہا(کتاب التمہید لابن عبد البر ص 133)ترجمہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی اس کے مخاطب ہیں صحابہ کرام میں سے بہت کم مکمل قران مجید کے حافظ تھے جیسے ابی بن کعب، زید بن ثابت ،معاذ بن جبل، ابو زید انصاری، عبد اللہ بن مسعود رضوان اللہ علیہم اجمعین لیکن تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قران مجید کے معانی سے خوب واقف تھے اور قرآن کی تفسیر جانتے تھے اور قرآن کے احکامات کو محفوظ کیے ہوئے تھے اور بسا اوقات ایک صحابی رسول قرآن مجید کے بے شمار احکام تو جانتا تھا لیکن قرآن مجید کی سورتوں کا حافظ نہیں ہوتا تھا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved