- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
حضرت! اگر لڑکا جدہ میں ہو اور لڑکی پاکستان میں ہو تو کیا لڑکے کی طرف سے نکاح کے لیے اس کے بھائی، ماموں یا چاچا وکیل بن سکتے ہیں ؟ اور کیا اس سے نکاح ہو جائے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جی ہاں! لڑکا اگر اپنے بھائی، ماموں یا چچا کو اپنے نکاح کا وکیل بنا دے تو یہ درست ہے۔ وکیل جب اس لڑکے کی طرف سے ایجاب و قبول کرے گا تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved