- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ اپنی تنخواہ لینے کے لیے یا کوئی جائز کام کروانا ہو اور متعلقہ دفاتر والے رشوت کے بغیر کام نہ کریں تو کیا حکم ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
رشوت لینا اور دینا حرام اور ناجائز ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو ر ضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“لَعْنَةُ اللّهِ عَلَى الرَّاشِيْ وَالْمُرْتَشِيْ. ”
سنن ابن ماجۃ، رقم الحدیث 2304
ترجمہ: رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے پر اللہ کی لعنت برستی ہے۔
اس لیے جس حد تک ممکن ہو سکے رشوت لینے دینے سے بچنا چاہیے۔ لیکن اگر کسی شخص کو اس کا استحقاق نہیں مل رہا یا ناقابلِ برداشت تاخیر اور ٹال مٹول کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو اور جس کے پاس حق ہے وہ رشوت لیے بغیر استحقاق نہیں دے رہا تو اپنے استحقاق کے حصول کے لیے ایسی رقم دینے کی گنجائش ہے۔ ان حالات میں یہ رشوت دینا دراصل دفعِ ظلم کے لئے ہو گا لیکن رشوت لینے والا تو ہر حال میں گناہ کا مرتکب قرار پائے گا اور یہ مال اس کے حق میں حرام ہی رہے گا۔
سلطان المحدثین ملا علی القاری (ت1014ھ) لکھتے ہیں:
أما إذا أعطی لیتوصل بہ إلی حق أو لیدفع بہ عن نفسہ ظلمًا فلا بأس بہ.
مرقاة المفاتیح: ج11 ص390
ترجمہ: اگر کوئی شخص رشوت اس لیے دیتا ہے تاکہ اپنے حق کو وصول کر سکے یا اس رشوت کے ذریعے اپنے اوپر کیے جانے والے ظلم سے بچ سکے تو دینے کی گنجائش ہے۔
علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه و ماله و لإستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع.
رد المحتار مع الدر المختار: ج6 ص423
ترجمہ: ظالم حکمران کو اس لیے مال دینا تاکہ اپنے آپ کا اور اپنے مال کا تحفظ ہو سکے یا اپنا حق وصول کرنے کے لیے مال دینا رشوت نہیں کہلائے گا۔ یہ حکم مال دینے والے کے لیے ہے (لیکن لینے والے کے لیے یہ ناجائز اور حرام ہی ہو گا)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved