- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
حضرت آپ سے ایک مشورہ مطلوب ہے کہ میں نے اپنے بھائی کو اپنا دو سال کا بچہ دیا ہے اور وہ بچہ وہاں پر رہتا ہے لیکن اسے ہماری یاد بھی آتی ہے۔ اگر واپس لوں گا تو بھائی کا دل دکھے گا، اب کیا طریقہ اختیار کروں کہ شرعاً گناہ سے بھی محفوظ رہوں اور بچہ بھی مل جائے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپ کے بھائی نے اگراس نیت سے بچہ گود لیا تھا کہ میں اس کی ضروریات پوری کروں گا، اس کے تمام تر اخراجات برداشت کروں گا، اس کی اچھی تعلیم و تربیت کا انتظام کروں گا، تو یہ کام باعثِ اجر و ثواب ہیں۔ اگر انہوں نے یہ سمجھ کر لیا کہ اب مجھے اس بچے کے حقیقی والد جیسے حقوق حاصل ہیں اور وہ اس بنا پر بچے کی ولدیت میں بجائے حقیقی والد (آپ کے نام ) کے اپنا نام درج کرائے تو یہ امر شرعاً ناجائز ہے، البتہ دونوں صورتوں میں آپ کو اپنا بچہ واپس لینے کا شرعاً حق حاصل ہے ، اس میں آپ گناہ گار نہیں ہوں گے۔اپنے برادر محترم کو آپ محبت اور سلیقہ مندی سے یہ بات سمجھائیں کہ ابھی بچہ معصوم سا ہے، اس کے لیے والدین کے بغیر رہنا دشوار ہے، ذرا بڑا اور سمجھ دار ہو جائے تب آپ لے لیجیے گا، اس طرح امید ہے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے وہ مان جائیں گے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved