• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

میرے نکاح سے والد خفا ہیں والد کی خاطر شوہر سے طلاق لے لوں؟

استفتاء

میں نہایت ادب، حیا اور دل کی گھبراہٹ کے ساتھ اپنا مسئلہ آپ کی خدمت میں عرض کر رہی ہوں۔ آپ میرے بھی شیخ ہیں اور میرے شوہر کے بھی، اسی لیے میں اس نازک معاملے میں آپ ہی کی طرف رجوع کرنے کی جرأت کر پائی ہوں۔حضرت! میں نے شدید ضرورت اور حالات کے دباؤ میں اپنے شوہر سے نکاح کیا۔ نکاح سے قبل والدین کو اطلاع دی گئی تھی مگر وہ اس پر راضی نہیں تھے۔ نکاح کے بعد میرے اور میرے شوہر کے درمیان گہری محبت، قلبی تعلق اور باہمی سکون پیدا ہو چکا ہے۔ میں دل سے اپنے شوہر سے محبت کرتی ہوں اور ان سے جدا ہونے کا تصور بھی میرے لیے نہایت تکلیف دہ ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ میرے والد اس نکاح کو تسلیم نہیں کر رہے۔ ان کی ناراضگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میرا تعلق اتر پردیش سے ہے اور میرے شوہر کا تعلق آسام سے ہے، نیز ہم دونوں کا تعلق مختلف ذاتوں سے ہے؛ میں عمادی ہوں اور میرے شوہر چودھری خاندان سے ہیں۔ اسی اختلاف کی بنا پر وہ اس نکاح کو قبول نہیں کر پا رہے۔حضرت! میں کیا کروں؟ ایک طرف شوہر سے بے پناہ محبت ہے اور دوسری طرف والد کی ناراضگی۔اسی اضطراب میں میں یہ سوال آپ کی خدمت میں رکھ رہی ہوں کہ:کیا مجھے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کے لیے گھر سے چلی جانا چاہیے، یا پھر طلاق لے لینا ہی بہتر ہے؟میرا دل طلاق لینے پر بالکل آمادہ نہیں، اور میں اپنے شوہر سے جدا ہونا نہیں چاہتی۔حضرت! براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ ایسی حالت میں میرے لیے شرعاً اور اخلاقاً درست راستہ کون سا ہے، تاکہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، گناہ اور کسی بڑے فساد سے محفوظ رہ سکوں۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہمیں صحیح راستے پر چلنے کی توفیق دے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ایسے موقع پر ہمیشہ اعتدال سے کام لینا چاہیے۔ اولاد پر لازم ہے وہ والدین کی ترجیحات کا خیال رکھیں اور والدین کو چاہیے کہ وہ اولاد کی جائز خواہشات کو سمجھ کر اس کے مطابق ان کے ازدواجی رشتہ کا فیصلہ کریں۔آپ کو چاہیے تھا کہ نکاح سے پہلے والد گرامی کو اعتماد میں لیتیں، اس کے بعد نکاح کرتیں، اس سے باہمی الفت کا ماحول برقرار رہتا۔اگر آپ کے والد گرامی کی بات میں وزن ہو کہ یہ نکاح دینی یا اخلاقی طور پر مفاسد کا باعث بن رہا ہو تو ایسی صورت میں آپ کو ضد چھوڑ دینی چاہیے۔اگر یہ نکاح دینی یا اخلاقی طور پر مفاسد کا باعث نہیں تو ایسی صورت میں محض ذات، علاقہ یا خاندان کے اختلاف کو بنیاد بنا کر نکاح کو ختم کرانے کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔ خصوصاً جب کہ آپ دونوں (میاں بیوی)کے درمیان محبت، سکون ، قلبی لگاؤ اور ذہنی ہم آہنگی بھی موجود ہے۔اب جو صورتِ حال ہے اس میں والد کی ناراضگی کو ختم کرنا بھی نہایت ضروری ہے، اس کے لیے نرمی، ادب، صبر اور دعا کو لازم اختیار کریں۔ اپنے قول و فعل میں تابع داری اور اطاعت گزاری رکھیں۔اپنے خاندان کے کسی معاملہ فہم ، سمجھدار، باوقار شخصیت (جن کی بات آپ کے والد گرامی مانتے ہوں) کو واسطہ بنائیں تاکہ وہ آپ کے والد کو سمجھائیں، ان کے تحفظات کو سلیقہ مندی سے دور کریں۔ امید ہے مؤثر طریقہ سے سمجھانے سےاور حکمت، خدمت ، حسنِ سلوک اور عمدہ اخلاق کے اثرات سے والد گرامی کی خفگی دور ہو جائے گی اور یہ معاملہ خوش اسلوبی سے سلجھ جائے گا۔واللہ اعلم بالصواب

© Copyright 2025, All Rights Reserved