- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک گاؤں میں ایک مسجد ہے جس کو غالباً 40 سال سے قریب عرصہ گزر گیا ہے وہ غیر آباد پڑی ہوئی ہے۔ وہاں علاقے کے حالات بہت ہی خراب ہیں دن ہو یا رات وہاں پر چوریاں بہت ہی عام ہیں اور شہر بھی کچھ دور ہے۔اُس گاؤں والوں میں سے ایسا کوئی بھی پڑھا لکھا موجود نہیں ہے کہ اُس مسجد کو مستقل طور پر آباد رکھ سکے ۔ اور بہت ہی کوشش کے باوجود خطرات کی وجہ سے ہمیشہ مستقل طور پر وہاں مؤذن اور امامت کا کام سرانجام دینے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ہے ۔پوچھنا یہ ہے کہ اُس مسجد میں غیر استعمال پڑی ہوئی کچھ چیزیں کسی اور مسجد میں دے سکتے ہیں ؟ جیسا کہ لاؤڈ اسپیکر وغیرہ ۔ کیوں کہ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اِس مسجد میں پہلے لاؤڈ اسپیکر تھے جو کہ مستقل طور پر استعمال نا ہونے کی وجہ سے اور مستقل طور پر مسجد کی دیکھ بھال اور سنبھال نہ ہونے کی وجہ سے گاؤں کے کچھ شریر لوگوں نے ایک ایک کر کے اُس مسجد کا بہت سامان لے کر چلے گئے کچھ اور سامان لوگوں نے چوری کرکے بیچ دیا تھا۔ابھی ایک امام و مؤذن گاؤں کے چند لوگوں نے رکھا اور اِس وجہ سے ایک شخص نیا لاؤڈ اسپیکر دلوایا تو وہ امام بھی اسی حالات کی وجہ سے مستقل طور پر رہ نہ سکا۔اب کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کسی اور مسجد میں یہ سامان دیدیا جائے، تاکہ یہ سامان پہلے کی طرح ضائع نہ ہو، اور کسی اور مسجد میں استعمال ہو جائے۔سوال یہ ہے کہ مستقل طور پر مسجد آباد نہ ہونے کی وجہ سے اُس مسجد کا کچھ غیر استعمال سامان کسی اور مسجد میں دے سکتے ہیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اللہ تعالیٰ نے مسجد کو اپنی یاد، عبادت اور بندگی کا مرکز بنایا ہے۔ مسجد کی غیرآبادی اہلِ علاقہ کی نااہلی، غفلت اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا کھلا ثبوت ہے۔ یہ اہلِ علاقہ کی شرعی اور دینی ذمہ داری ہے کہ مسجد کو آباد رکھیں۔مسجد کا غیر آباد ہونا دراصل ایک گناہ ہے جس پر اہلِ علاقہ کو چاہیے کہ اللہ سے توبہ کریں، اپنے اس قصور پر معافی مانگیں اور آئندہ سنجیدگی و ذمہ داری کے ساتھ مسجد کو آباد کرنے کی فکر کریں۔یہ بات بھی یاد رکھیں کہ ہر شخص اپنے گھروں میں قیمتی سامان حفاظت کے ساتھ رکھتا اور اس کی حفاظت کا انتظام کرتا ہے۔ اگر مسجد کا سامان غیر محفوظ رہا یا برباد ہوا تو یہ صرف اور صرف اہلِ علاقہ کی غفلت اور بے پروائی کی دلیل ہے۔ مسجد کے سامان کی حفاظت اور اس کا بہتر استعمال بھی اہلِ علاقہ کی شرعی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔لہٰذا، اہلِ علاقہ پر لازم ہے کہ وہ:1: مسجد کے غیر آباد کرنے کے گناہ پر توبہ کریں۔2: مسجد کو ازسرِنو آباد کرنے کا عزم کریں۔3: اپنی ذمہ داری اور فرض کو پہچان کر مسجد کے نظام اور سامان کی حفاظت کریں۔یاد رکھیں! اس مسجد کا سامان کسی اور مسجد میں لگانا شرعاً جائز نہیں ہے۔ اس مسجد کے لیے وقف سامان اسی کی ضرورت میں استعمال کیا جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved