• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

حیض کی حالت میں بغیر احرام مکہ آنے والی دوبارہ احرام کہاں سے باندھے؟

استفتاء

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ1: اگر کوئی حائضہ عورت سیدھے مکہ چلی جائے اور پاک ہونے کے بعد مسجد عائشہ سے احرام باندھ لے تو دم ساقط ہو جائے گا؟2: کیا بینک میں جمع شدہ سود سے کسی ناظره قران پڑھنے والے یا عالم بننے یا حفظ کرنے والے بچے کی مدرسے کی فیس ادا کر سکتے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

[1]: مسجد عائشہ جا کے احرام باندھنے سے دم ساقط نہیں ہو گا۔ دم ساقط ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کسی میقات سے احرام باندھ کے آئے ۔ بغیر احرام میقات سے تجاوز پر شرعی حکم کی جو خلاف ورزی ہوئی اس پر توبہ و استغفار بھی لازم ہے۔یاد رہے کہ حیض؛ احرام سے رکاوٹ نہیں ہے اس لیے حائضہ کے لیے بھی میقات سے احرام باندھ کے آنا ضروری ہوتا ہے۔ احرام کا مطلب اتنا ہے کہ وہ عمرہ یا حج کی نیت سے تلبیہ پڑھ لے، بس اس کا احرام ہو جائے گا، اس کے بعد دو رکعت نفل نہ پڑھے کیوں کہ حیض کی وجہ سے نماز پڑھنا جائز نہیں۔[2]: ایسے مال کا مصرف یہ ہے کہ ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر دیا جائے، اس لیے اس مال کو فیس کی مد میں دینا جائز نہیں۔ ہاں اگر ان مستحق طلبہ یا ان کے مستحق والدین کو بغیر نیتِ ثواب یہ رقم دے دی جائے تو وہ اس رقم سے فیس ادا کر سکتے ہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved