- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کیا سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کرنی چاہیے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1) واجب قربانی تو ہر صاحبِ نصاب بندہ فقط اپنی ذات کی طرف سے کر سکتا ہے، کسی اور کی طرف سے کرنا جائز نہیں، اور نہ ہی اپنے ذمہ کسی فرض اور واجب عمل کا اجر و ثواب کسی دوسرے مسلمان کو پہنچانا جائز ہے۔(2) نفل قربانی کسی بھی دوسرے مسلمان کے نام کی کرنا جائز ہے۔ نفل قربانی کی طرح دیگر نفلی اعمال کا ثواب بھی دوسرے زندہ یا فوت شدہ افراد کو پہنچانا جائز ہے۔ لہٰذا اگر نفل قربانی کرنے کی استطاعت ہو تو بِلا شبہ افضل یہی ہے کہ سب سے پہلےحضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سےقربانی کی جائے، دوسروں کی طرف سے بعد میں کی جائے۔(3) کوئی صاحبِ نصاب ہو تو اس کے ذمہ ایک واجب قربانی ہی لازم ہے، یہ لازم سمجھنا درست نہیں کہ اپنی واجب قربانی سے پہلے جب تک آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے نام کی قربانی نہ کی جائے تو واجب قربانی بھی قبول نہ ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کی جانے والی قربانی کی حیثیت نفل کی ہے، واجب قربانی کے علاوہ وسعت ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی کر لی جائے ورنہ واجب قربانی پہ اکتفاء کیا جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved