• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کیا بچی کا عقیقہ کرنا ضروری ہے؟

استفتاء

میری ایک بچی ہے، اس کی عمر تقریباً ایک سال ہے، ہم نے ابھی تک اس کا عقیقہ نہیں کیا۔ کیا ہمارے ذمہ اس کا عقیقہ کرنا لازمی ہے؟ کیا عقیقہ نہ کرنے کی وجہ سے ہم گناہ گار ہوں گے؟ مجھے اس بارے میں الجھن ہے، براہِ کرم راہنمائی فرمائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عقیقہ سے متعلق چند ضروری مسائل بھی بتا دیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

بچوں کا عقیقہ کرنا کوئی فرض یا واجب عمل نہیں ہے، کہ جس کے نہ کرنے پہ گناہ لازم آتا ہو۔ یہ ایک مستحب عمل ہے، اگر وسعت ہو تو کرنا لینا چاہیے اس سے بچے کی سب بلائیں دور ہو جاتی ہیں اور بچہ آفات و بلیّات سے محفوظ رہتا ہے۔ذیل میں عقیقہ سے متعلق چند ضروری مسائل تحریر کیے جاتے ہیں ۔(1) سنت یہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد ساتویں دن اس کے سر کے بال صاف کیے جائیں اور ان کے وزن کے برابر چاندی یا سونا یا اس کی قیمت صدقہ کی جائے، اگر لڑکا ہو تو دو بکرے اگر لڑکی ہو تو ایک بکرا عقیقہ کے طور پر ذبح کیا جائے اور اسی دن بچے کا نام بھی رکھا جائے ۔(2) اگر ساتویں دن عقیقہ کرنا ممکن نہ ہو تو چودہویں دن یا اکیسویں دن کر لیا جائے یعنی عقیقہ کرنے میں ساتویں دن کا لحاظ رکھنا بہتر ہے اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جس دن بچے کی ولادت ہوئی ہو اگلے ہفتے اس سے ایک دن پہلے عقیقہ کیا جائے مثلاً اگر بچہ ہفتہ کے دن پیدا ہوا ہو تو آنے والے جمعہ کو اگر جمعہ کو پیدا ہوا ہوتو آنے والی جمعرات کو عقیقہ کیا جائے ۔(3) اگر وسعت زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے لڑکے کی طرف سے ایک ہی بکرے کا عقیقہ کیا جائے تب بھی کوئی حرج نہیں ۔(4) عقیقہ کے جانور میں ان شرائط کا موجود ہونا ضروری ہے جو قربانی کے جانور میں ہوتی ہیں۔ لہٰذا جس جانور کی قربانی درست ہے اس کا عقیقہ بھی درست ہے جس کی قربانی درست نہیں اس کو عقیقہ کے طور پر ذبح کرنا بھی درست نہیں ۔(5) قربانی کے بڑے جانور یعنی گائے ، بھینس ، اونٹ میں عقیقہ کا حصہ رکھنا جائز ہے ۔(6) عقیقہ کا گوشت کچا یا پکا تقسیم کیا جائے یا پکا کر دعوت کھلائی جائے سب جائز ہے ۔(7) عقیقہ میں جانور ذبح کرنا سنت ہے اگر جانور ذبح کرنے کے بجائے ویسے ہی گوشت لے کر تقسیم کیا جائے یا پکا کر کھلایا جائے تو یہ محض ایک دعوت ہو گی ، عقیقہ نہ ہو گا۔(8) بچہ پیدا ہو کر فوت ہو جائے تو اس کی طرف سے عقیقہ کرنا شرعاً ثابت نہیں ۔(9) بچے کے عقیقہ اور دیگر اخراجات باپ کے ذمہ ہوں گے۔ اگر بچہ کی والدہ اپنی خوشی سے عقیقہ کی رقم ادا کرنا چاہے تو کوئی مضائقہ نہیں ، شرعاً عقیقہ بھی درست ہوگا۔(10) عقیقہ کا گوشت بچے کے والد ،والدہ ،دادا ،دادی، نانا، نانی ،تایا ،پھوپھی،خالہ سب رشتہ دار کھا سکتے ہیں ۔(11) بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عقیقہ والے جانور کی ہڈیاں نہ توڑی جائیں، یہ خیال غلط ہے،شرعی طور پر عقیقہ میں ذبح ہونے والے جانور کی ہڈیاں توڑنا درست ہے ۔(12) بعض لوگ یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ عقیقہ کا جانور ٹھیک اسی وقت ذبح کیا جائے جس وقت حجام بچے کے سر کو مونڈنا شروع کرے ،شرعی طور پر اس کی کوئی اصل نہیں، یہ محض ایک رسم ہے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ بچے کے بال پہلے مونڈے جائیں جانور بعد میں ذبح ہو یا جانور پہلے ذبح کیا جائے بال بعد میں مونڈے جائیں، دونوں صورتیں جائز ہیں ۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved