• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

دل میں طلاق دینا

استفتاء

عرض یہ ہے کہ مجھے میرا خاوند کہتا ہے ہمارے بچے کی پیدائش کے بعد میں نے دل میں تمھیں طلاق دے دی تھی اور اب ہمارا آپس میں کوئی ازواجی رشتہ نہیں۔ مگر وہ یہ طلاق والی بات گھر والوں اور رشتہ داروں کے سامنے نہیں کرتا مگر مجھ سے متعدد بار یہی کہہ چکا ہے کہ اس نے مجھے کئی دن پہلے طلاق دے دے دی تھی۔ مجھے تین بار طلاق میرے سامنے نہیں دی مگر اس بات کا ذکر کئی بار میرے سامنے کر چکے ہیں کہ میں نے تمھیں طلاق دے دی تھی۔حضرت رہنمائی فرمائیں کہ آیا مجھے طلاق ہوگئی ہے یا نہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

دل ہی دل میں طلاق دینے سے طلاق نہیں ہوتی البتہ بعد میں شوہر کا اقرار کرنا کہ میں نے طلاق دے دی ہے تو اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے کیونکہ طلاق کا اقرار کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ، خواہ مذاق میں اقرار کیا ہو، یا جھوٹ بولا ہو۔’’ولو أقر بالطلاق كاذباً أو هازلاً وقع۔۔(حاشیہ ابن عابدین ۔کتاب الطلاق ،ج3ص236)ترجمہ:اگر شوہر نے طلاق کا اقرار کیا جھوٹ سے یا مذا ق میں تو طلاق واقع ہو جائے گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved