- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ مجھے میرا خاوند کہتا ہے ہمارے بچے کی پیدائش کے بعد میں نے دل میں تمھیں طلاق دے دی تھی اور اب ہمارا آپس میں کوئی ازواجی رشتہ نہیں۔ مگر وہ یہ طلاق والی بات گھر والوں اور رشتہ داروں کے سامنے نہیں کرتا مگر مجھ سے متعدد بار یہی کہہ چکا ہے کہ اس نے مجھے کئی دن پہلے طلاق دے دے دی تھی۔ مجھے تین بار طلاق میرے سامنے نہیں دی مگر اس بات کا ذکر کئی بار میرے سامنے کر چکے ہیں کہ میں نے تمھیں طلاق دے دی تھی۔حضرت رہنمائی فرمائیں کہ آیا مجھے طلاق ہوگئی ہے یا نہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
دل ہی دل میں طلاق دینے سے طلاق نہیں ہوتی البتہ بعد میں شوہر کا اقرار کرنا کہ میں نے طلاق دے دی ہے تو اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے کیونکہ طلاق کا اقرار کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ، خواہ مذاق میں اقرار کیا ہو، یا جھوٹ بولا ہو۔’’ولو أقر بالطلاق كاذباً أو هازلاً وقع۔۔(حاشیہ ابن عابدین ۔کتاب الطلاق ،ج3ص236)ترجمہ:اگر شوہر نے طلاق کا اقرار کیا جھوٹ سے یا مذا ق میں تو طلاق واقع ہو جائے گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved