• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کیا غیرصحابی کو “رضی اللہ عنہ” کہنا جائز ہے؟

استفتاء

بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ تم حنفی لوگ کہتے ہو کہ کسی صحابی کا نام آئے تو رضی اللہ عنہ کہا جائے، کسی ولی کا نام آئے تو رحمۃ اللہ علیہ کہا جائے، جب کہ تم حنفیوں کی کتابوں میں تمہارے امام ابوحنیفہ کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ لکھا ہوا ہے، گویا تمہارے نزدیک امام ابوحنیفہ کا مقام صحابی جیسا ہے، اس میں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تنقیص لازم آتی ہے۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ اگر ہماری کتابوں میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو رضی اللہ عنہ لکھا گیا ہے تو کیا اس سے واقعی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام و مرتبہ میں نقص لازم آتا ہے؟ نیز اگر بعض لوگوں کی کتابوں میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ لکھا ہوا ہو تو براہِ کرم اس کے حوالہ بھی عنایت فرما دیجیے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

غیر صحا بی کو ”رضی اللہ عنہ“ کہنا محض احناف کا طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ خود قرآن کریم کا طریقہ ہے۔ سورۃ التوبہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ(سورۃ التوبۃ:100)ترجمہ:اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اس سے راضی ہیں۔اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے انصار ومہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اور ان کے متبعین کو”رضی اللہ عنہم“ فرمایا ہے۔ امام ابو حنیفہ اگرچہ صحابی نہیں بلکہ غیر صحابی ہیں لیکن انہیں ”رضی اللہ عنہ“ کہنا گستاخی نہیں بلکہ قرآنی اسلوب کی اتباع ہے۔ البتہ یہاں یہ اشکال پیدا ہو سکتا ہے کہ اگر قرآنی اسلوب یہی ہے کہ غیر صحابی کو ”رضی اللہ عنہ“ کہا جا سکتا ہے تو کیا یہ ضابطہ غلط ہے کہ صحابی کو ”رضی اللہ عنہ“اور غیر صحابی کو ”رحمۃ اللہ علیہ“ کہا جائے؟اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ضابطہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے اور قرآنی اسلوب بھی اپنی جگہ درست ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ علماء کرام نے جو یہ ضابطہ بیان فرمایا ہے کہ صحابی کو ”رضی اللہ عنہ“ او رغیر صحابی کو ”رحمۃ اللہ علیہ“ کہا جائے اس کی وجہ یہ ہے تاکہ صحابی اور غیر صحابی میں اشتباہ نہ ہو۔ مثلاً ”محمد“ نام کے تین آدمی ہیں۔ ایک خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ایک صحابی ہیں اور ایک بعد کے ولی ہیں۔ ”محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم“ نبی ہیں، ”محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ“ صحابی ہیں اور ”محمد بن حسن الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ“ ولی ہیں۔ اب اگر کوئی کہے کہ ”محمد نے فرمایا“ تو یہ کیسے معلوم ہو گا کہ یہ کون سے محمد کا فرمان ہے؟ اب یہ امتیاز ضابطہ سے ہو گا کہ اگر ”صلی اللہ علیہ وسلم“ ساتھ لکھا ہو گا تو سمجھیں گے یہ فرمانے والے اللہ کے نبی ہیں، اگر ”رضی اللہ عنہ“ ساتھ لکھا ہو گا تو معلوم ہو جائے گا کہ قائل صحابی ہیں اور اگر ”رحمۃ اللہ علیہ“ ساتھ لکھا ہو گا تو سمجھیں گے کہ اس کے قائل اللہ کے ولی ہیں۔ تو یہ اصطلاحات اس لیے متعین کی گئیں تاکہ بعد والوں کو اشتباہ نہ ہو۔ لہٰذا اگر کہیں کسی غیر صحابی کی شہرت اتنی زیادہ ہو کہ اگر انہیں ”رضی اللہ عنہ“ بھی کہہ دیں تو شہرت زیادہ ہونے کی وجہ سے معلوم ہو جائے کہ یہ صحابی نہیں ہے تو ایسے شخص کو ”رضی اللہ عنہ“ کہنا بھی درست ہے اور ”رحمۃ اللہ علیہ“ کہنا بھی درست ہے۔امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت بھی اتنی معروف و مشہور ہے کہ اگر انہیں ”رضی اللہ عنہ“ بھی کہہ دیا جائے تب بھی کسی کے ذہن میں یہ نہیں آتا کہ آپ صحابی ہوں گے، اس لیے آپ کو ”رضی اللہ عنہ“ کہنا بالکل درست ہے۔ قرآن کریم کا اسلوب، ضابطہ اور فقہائے احناف کی عبارات سب درست ہیں۔جی ہاں! خود بعض لوگوں کی کتابوں میں بھی امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے لیے ”رضی اللہ عنہ“ کا لقب استعمال کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو:1: نواب صدیق حسن خان قنوجی بھوپالی ( ت1307ھ) امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ ان الفاظ سے کرتے ہیں:
”اَلْاِمَامُ اَبُوْ حَنِیْفَۃَ النُّعْمَانُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ“(التاج المکلل: ص 125)2: ابو سعید محمد حسین بٹالوی (ت1338 ھ) نے 1292ھ (1877ء) میں ایک رسالہ ”اشاعۃ السنۃ“ ماہنامہ جاری کیا جس کا مقصد اپنے مسلک کی اشاعت کرنا تھا۔ اس رسالے میں ایک مقام پر لکھا ہے:”حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ نے فقہ اکبر میں فرمایا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کفر وغیرہ کبائر و فواحش سے منزہ ہیں۔ فقہ اکبر کی شرح میں ملا علی قاری صاحب نے کہا ہے کہ وہ ایسے صغائر سے بھی منزہ ہیں جن میں خست ودنائت پائی جاتی ہو جیسے لقمہ کی چوری وغیرہ۔ ایسے ہی شرح مواقف میں فرمایا ہے۔“(اشاعۃ السنۃ: ج11شماره 4ص98)3: نواب صدیق حسن خان صاحب کے بیٹے نواب علی حسن خان (ت1356ھ) نے اپنے والد نواب صاحب کی سوانح”مآثر صدیقی“ کے نام سے لکھی ہے۔ اس میں اپنے والد صاحب کے حوالے سے لکھتے ہیں:”امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے نسبت وہ لکھتے ہیں کہ امام اعظم کوفی رضی اللہ عنہ کو ائمہ اربعہ میں اجتہاد میں شرفِ تقدم حاصل ہے۔“(مآثر صدیقی: ج4 ص6)درج بالا تحریر سے واضح ہوا کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نام کے ساتھ جو صیغۂ ِ ترضّی (رضی اللہ عنہ لکھنا) استعمال ہوا، اس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی شان و عظمت اور مقام و مرتبہ میں ذرا برابر بھی نقص لازم نہیں آیا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved