• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کسی قادیانی کی شادی میں شرکت کرنے اور نکاح میں گواہ بننے کا حکم

استفتاء

دریافت یہ کرنا ہے کہ اگرکوئی شخص جان بوجھ کر یا بھول کر کسی قادیانی کی شادی میں شریک ہو اور اس کے نکاح کا گواہ بنا ہو تو اس کے لیے شرعاً کیا حکم ہوگا؟ وضاحت فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

قادیانی کافر ہیں، مرتد ہیں، ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنااور رشتہ ناتاجوڑنا ایسے ہی حرام ہے جیسے کسی ہندو اور سکھ کے ساتھ حرام ہے،بلکہ قادیانیوں کا کفر عام کافروں سے بڑھ کر ہے، اس لیے ان کے ساتھ کسی قسم کے معاملات کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ ان کے کسی تہوار یا پروگرام میں شرکت کرنا اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو ایذاء پہنچانے کا باعث ہے۔ اس لیے اس چیز کو کبھی بھی معمولی نہ سمجھا جائے ۔آپ نے سوال میں وضاحت نہیں کی کہ جس قادیانی مرد کے نکاح کا گواہ بنا ہے اس کی شادی کسی قادیانی لڑکی سے ہوئی تھی یا مسلمان لڑکی سے؟ ۔

بہرحال دونوں صورتوں میں تفصیل حسبِ ذیل ہے۔
(1) قادیانی لڑکے کی کسی قادیانی لڑکی کے ساتھ شادی تھی، اس میں کوئی مسلمان شریک ہوا اور اس کے نکاح کا گواہ بن گیا تو وہ سخت گناہ گار ہوا، اپنی اس قبیح حرکت پہ ندامت کے ساتھ سچی توبہ کرے، بہتر ہے دو رکعت صلوٰۃ التوبہ پڑھ کر آئندہ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ خوب گڑگڑا کے معافی مانگے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے معاف فرما دیں گے۔(2) قادیانی لڑکے کی کسی مسلمان لڑکی کے ساتھ شادی ہوئی تو شرعاً ان دونوں کا یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا، دونوں کے درمیان علیحدگی فرض ہے، اکٹھے رہنا حرام ہے اور جنسی تعلق قائم کرنا سراسر زنا ہوگا، اس نتیجے میں اولاد ہوئی تو حرامی اور ناجائز شمار ہو گی۔ قادیانی مرد کے ساتھ مسلمان لڑکی یا مسلمان مرد کے ساتھ قادیانی لڑکی کی شادی اور نکاح میں شریک ہونے والے مسلمان کا شرعی حکم یہ ہے:(۱) اس کو لڑکے یا لڑکی کے قادیانی ہونے کا علم نہیں تھا، وہ لاعلمی میں مسلمان سمجھ کر شریک ہوا تو شرعاً وہ گناہ گار نہیں۔(۲) اس کو لڑکے یا لڑکی کے قادیانی ہونے کا علم تھا مگر وہ قادیانیوں کے عقائد سے ناواقف تھا اس لیے ان کو مسلمان سمجھ کر شریک ہوا تو یہ سخت گناہ گار ہوا ، اس پر لازم ہے کہ صدقِ دل سے اللہ تعالیٰ سے اپنے اس جرم کی معافی مانگے۔(۳) اس کو لڑکے یا لڑکی کے قادیانی ہونے کا علم بھی تھا، وہ قادیانیوں کے عقائد و نظریات سے بھی واقف تھا مگر اسے اس مسئلے کا علم نہیں تھا کہ شریعت میں مسلمانوں کا قادیانیوں کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں، اس مسئلہ سے ناواقفیت کی بناء پر اس نے شرکت کی ہو تو وہ بھی گناہ گار ہو گا، اس پر بھی ضروری ہے کہ سچے دل سے توبہ کرے۔(۴) اگر شادی میں شریک ہونے والا مسلمان لڑکے یا لڑکی کے قادیانی ہونے کا علم ہونے، قادیانیوں کے عقائد معلوم ہونےاور ان کو غیر مسلم سمجھنےکے باوجود ان کے ساتھ نکاح کو جائز سمجھ کر اس تقریب میں شریک ہواہو تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا،اس پر توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کرنا لازم ہے، اگر شادی شدہ ہو تو نکاح کی تجدید بھی لازم ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved