- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
دعا کے اختتام پر بعض لوگ یہ آیتِ کریمہ “إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا” پڑھتے ہیں ، کیا اس طرح کے پڑھنے میں کوئی حرج ہے؟ یہ پڑھ لیا جائے تو شرعاً کوئی ممانعت تو نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
دعا میں یا دعا کے علاوہ درود و سلام سے قبل یہ آیتِ کریمہ پڑھ لی جائے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ، جیسا کہ خطبہ جمعہ وغیرہ میں اسی طرح پڑھا جاتا ہے۔ کیوں کہ عموماً اس کے پڑھنے کا مقصد یہ استحضار کرنا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر درود و سلام پیش کرنے کا حکم خود ذاتِ باری تعالیٰ نے دیا ہے، اس لیے ہمیں بھی درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنا چاہیے۔ہاں اگر درود و سلام سے قبل اس آیتِ کریمہ کا پڑھنا لازمی سمجھا جائے اور یہ ذہن بنا لیا جائے کہ اس آیت کے پڑھے بغیر درود و سلام کا پڑھنا جائز نہیں، یا درود و سلام ناقص ہے، یا اس کے بغیر دعا قبول نہیں ہو گی، تو یہ تصور شرعاً غلط ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved