- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میرا سوال یہ ہے کہ کیا جسم سے خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ مکمل حوالے کے ساتھ شریعت کی روشنی میں جواب ارسال فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
خون نکل کر اگر جسم کے کسی ایسے حصہ کی طرف بہہ پڑے جسے وضو یا غسل میں دھونا فرض ہوتا ہے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ مثلاً پاؤں سے خون نکلا اور بہہ پڑا تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا کیو نکہ پاؤں کو وضو میں دھونا فرض ہے۔اسی طرح اگر بغل سے خون نکلا اور بہہ پڑا تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا کیو نکہ بغل کو غسل میں دھونا فرض ہے۔خون نکلنے سے وضو ٹوٹنے کے چند دلائل یہ ہیں:
[۱]: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَتْ جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “لَا إِنَّمَا ذٰلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِحَيْضٍ فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِيْ عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّيْ.” قَالَ وَقَالَ أَبِيْ: “ثُمَّ تَوَضَّئِيْ لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتّٰى يَجِيءَ ذٰلِكَ الْوَقْتُ”(صحیح البخاری: رقم الحدیث 228)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی جیش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگیں کہ میں مستحاضہ (وہ عورت جس کا خون جاری رہے،بند نہ ہوتا ہو) ہوں، کیا میں نماز چھوڑ دیا کروں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں، نماز تو حیض کی وجہ سے چھوڑی جاتی ہے اور) یہ تو ایک رگ کا خون ہے، حیض نہیں ہے۔ چنانچہ جب حیض کے ایام شروع ہو جائیں تو نماز چھوڑ دیا کرو، جب حیض ختم ہو جائے تو خون دھو لیاکرو اور نماز ادا کیا کرو۔ حدیث کے راوی ہشام کہتے ہیں کہ میرے والد(عروہ) کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”ہر نماز کے لیے وضو کرتی رہ یہاں تک کہ پھر حیض کے دن آ جائیں۔“
علامہ زین الدین بن ابراہیم بن محمد المعروف ابن نجیم الحنفی (ت970ھ) لکھتے ہیں:فَكَانَ حُجَّةً لنا لِأَنَّهُ عَلَّلَ وُجُوبَ الْوُضُوءِ بِأَنَّهُ دَمُ عِرْقٍ وَكُلُّ الدِّمَاءِ كَذَلِكَ.(البحر الرائق لابن نجیم الحنفی: ج1 ص35 کتاب الطہارۃ)
ترجمہ: (صحیح البخاری کی) یہ روایت ہماری دلیل ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خون نکلنے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ یہ خون رگ کا خون ہے اور ہر خون رگ ہی کا خون ہوتا ہے (جو دلیل ہے کہ ہر بہنے والے خون سے وضو ٹوٹ جاتا ہے)[۲]: عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “اَلْوُضُوْءُ مِنْ كُلِّ دَمٍ سَائِلٍ.”(الکامل لابن عدی: ج1 ص190 ترجمۃ احمد بن الفرج)
ترجمہ: حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ایسا خون جو نکل کر بہہ پڑے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ شیخ الاسلام مولانا ظفر احمد عثمانی (ت1394ھ) فرماتے ہیں:
”اس حدیث کی سند حسن درجہ کی ہے۔“
(اعلاء السنن: ج1 ص154 باب الوضوء من الرعاف و القئی الکثیر الخ)
[۳]: عَنِ الْحَسَنِ رَحِمَہُ اللهُ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى الْوُضُوءَ مِنَ الدَّمِ إِلَّا مَا كَانَ سَائِلًا.(مصنف ابن ابی شیبۃ: ج1 ص 137اذا سال الدم او قطر او برز ففیہ الوضوء، رقم الحدیث 1468)
ترجمہ: حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا موقف یہ تھا کہ خون جب تک بہہ نہ پڑے اس وقت تک وضو نہیں ٹوٹتا۔ علامہ ابو الحسن علی بن عثمان بن ابراہیم بن الماردینی الحنفی (ت750ھ) لکھتے ہیں:
اس کی سند صحیح ہے۔
(الجوہر النقی علی سنن البیہقی: ج1 ص141)
واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved