- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
مسئلہ یہ ہے کہ ایک لڑکی کا نکاح پانچ سال قبل کیا گیا تھا۔ اس وقت لڑکی کی رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ پانچ سال بعد اس لڑکی کے گھر والے رخصتی کرنا چاہتے تھے لیکن پانچ سال بعد وہ لڑکا کہتا ہے کہ مجھے رخصتی سے پہلے گاڑی چاہئے۔ لڑکی کے گھر والے اس حالت میں نہیں ہیں کہ وہ لڑکے کو گاڑی دے سکیں۔ لڑکے نے کہا کہ اگر آپ گاڑی نہیں دے سکتے تو لڑکی کی رخصتی بھی نہیں ہو گی اور نہ ہی میں اس لڑکی کو طلاق دوں گا۔
اب لڑکی کا دوسرا نکاح کیسے کیا جائے ؟کیا طلاق لینا واجب ہے یا بلا طلاق ہی دوسرا نکاح کرایا جا سکتا ہے؟ شریعتِ اسلامی کی روشنی میں مدلل ومفصل جواب مرحمت فرمائیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
عورت جب تک کسی کے نکاح میں ہے اس کا کسی اور مرد سے نکاح کرنا حرام اور ناجائز ہے۔ اس لیے اول تو یہی کوشش کی جائے کہ اس عورت کی رخصتی اسی خاوند سے ہو لیکن اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو جب تک اس خاوند سے طلاق نہ لی جائے اس عورت کا دوسری جگہ نکاح کروانا جائز نہیں۔ خاندان کے کچھ سمجھدار با اثر افراد اس کو سمجھائیں اگر شرافت سے طلاق پر آمادہ ہو جائے تو بہت اچھا ورنہ کچھ سختی بھی کر سکتے ہیں ۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَاءِ﴾سورۃ النساء: 24ترجمہ: تمہارے لیے ان عورتوں سے نکاح کرنا بھی حرام ہے جو کسی اور کے نکاح میں ہوں۔
علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
أما نكاح منكوحة الغير …. لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا.رد المحتار: ج3 ص132ترجمہ: جو عورت کسی کے نکاح میں ہو تو اس سے نکاح کے جواز کا کوئی بھی قائل نہیں اور ایسا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved