- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ اگر شوہر بیوی سے دوسرے نکاح کے بارے میں رضا مندی چاہ رہا ہو یا ایک طرح کی اجازت چاہ رہا ہو اور بیوی منع کرے تو بیوی اللہ کے یہاں مسؤول ہو گی؟ شریعت میں تو بیوی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے مگر شوہر اور پہلی بیوی کے آپس کے تعلق کی بنا پر وہ اک اچھے ماحول کے ساتھ دوسرا نکاح کرنا چاہ رہا ہے اور بیوی کے لئے ظاہر ہے اس بات پر رضا مند ہونا بہت زیادہ مشکل ہے جبکہ آپس میں تعلق بہت اچھا ہے۔ تو ان حالات میں کیا کرنا چاہیے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
دوسرے نکاح کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا شرعاً ضروری نہیں بلکہ اگر پہلی بیوی دوسرے نکاح میں رکاوٹ بنے تو عند اللہ مجرم شمار ہو گی۔ مرد کے لیے اللہ تعالیٰ نے چار نکاح کرنے کی اجازت دی ہے۔شرعاً جس چیز کی اجازت ہو تو اس میں رکاوٹ بننا کہاں جائز ہو سکتا ہے؟
البتہ ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ دوسرے نکاح کے لیے پہلی بیوی کی رضامندی کے بجائے اس کا اعتماد حاصل کرنا چاہیے۔ خاوند اور بیوی ایک عرصہ گزار چکے ہوتے ہیں۔ اب ایک نئی خاتون کی آمد سے پہلی بیوی کو صدمہ پہنچنا ایک لازمی امر ہے۔ اس صورتحال میں خاوند کو چاہیے کہ بیوی کو یہ یقین دہانی کرائے کہ دوسرا نکاح ہمارے تعلقات پر اثرانداز نہیں ہو گا۔میں جس طرح تمہارا خیال رکھتا آیا ہوں آئندہ زندگی میں بھی یہی سلوک جاری رکھوں گا۔ پھر خاوند کو حسنِ سلوک کا عملی مظاہرہ بھی کرنا چاہیے۔ نیز بیوی کو بھی چاہیے کہ اسے حکمِ خدا سمجھ کر راضی رہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھے گی تو برداشت کرنا آسان ہو گا۔ یوں اعتماد اور مشیت خداوندی پر رضا کی فضا کے ساتھ دوسرا نکاح کیا جائے تو ان شاء اللہ گھریلو تعلقات میں رکاوٹ نہیں بنے گا اور زندگی بھی خوش وخرم گزرے گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved