- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں۔
(1) میری ایک بہن نے سوال کیا ہے کہ وہ روزانہ پانچ بار ”سورۃ یٰس“ کی تلاوت کرتی ہے ۔ ایک اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے، ايك رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے، ایک اپنی طرف سے ، اور ایک ان کی والدہ مرحومہ کی طرف سے، اور ایک گھر میں خیر و برکت کے حصول کے لیے ۔ کیا اس طریقے سے پڑھنا درست ہے؟(2) دکان میں خیر و برکت کے لیے کوئی وظیفہ عنایت فرمائیں۔(3) بچے بہت ضد کرتے ہیں، پڑھائی میں دھیان نہیں دیتے، ا س کے لیے بھی کوئی وظیفہ عنایت فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1) احادیث مبارکہ میں ”سورۃ یٰس“ کو قرآنِ کریم کا دل قرار دیا گیا ہے، اور اسے مختلف مقاصد کے لیے پڑھنے کی فضیلت اور ترغیب وارد ہوئی ہے۔ ایک حدیث پاک میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ جو بندہ ایک مرتبہ ”سورۃ یٰس“ پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے دس مرتبہ قرآن پاک پڑھنے کا ثواب عطا فرماتے ہیں۔ ایک حدیث پاک میں ہے کہ جو بندہ ”سورۃ یٰس“ اللہ تعالیٰ (کی خوشنودی) اور آخرت(کی بہتری) کے لیے پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔ اسی طرح ”سورۃ یٰس“ کو مُردوں پر پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے، اس کا ایک مطلب یہ ہےکہ فوت ہونے شخص کے پاس “سورۃیٰس” پڑھی جائے تو روح بہ آسانی نکل جاتی ہے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ اسے پڑھ کر اپنے مُردوں کو ثواب پہنچایا کرو۔ معلوم ہوا آپ کی بہن جن مقاصد کے حصول کے لیے ”سورۃ یٰس“ پڑھتی ہیں، اس طرح پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
(2) روزانہ زیادہ سے زیادہ جتنا ہو سکے یہ دعا پڑھتے رہا کریں، اللہ کریم اس کی برکت سے خیرو برکت کے دروازے کھول دیں گے۔ دعا یہ ہے۔ “تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا”۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے اس دعا کی فضیلت سے متعلق ایک واقعہ نقل کیا ہے، جو یہ ہے۔ “حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ باہر نکلا، اس طرح کا میرا ہا تھ آپ کے ہاتھ میں تھا۔ آپ کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو بہت شکستہ حال اور پریشان تھا ، آپ نے پوچھا کہ تمہارا یہ حال کیسے ہو گیا؟۔ اس شخص نے عرض کیا کہ بیماری اور تنگدستی نے یہ حال کر دیا، آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں چند کلمات بتلاتا ہوں ، وہ پڑھو گے تو تمہاری بیماری اور تنگدستی جاتی رہے گی، وہ کلمات یہ تھے۔ تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا”۔ اس کے کچھ عرصہ کے بعد پھر آپ اس طرف تشریف لے گئے تو اس کو اچھے حال میں پایا، آپ نے خوشی کا اظہار فرمایا، اس نے عرض کیا کہ جب سے آپ نے مجھے یہ کلمات بتلائے تھے، میں پابندی سے ان کو پڑھتا ہوں”۔(معارف القرآن: ج5 ص543)
(3) درودِ پاک تین بار، سورۃ الفاتحہ گیارہ بار، سورۃطٰہٰ کی یہ آیات ” رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِيْ وَيَسِّرْ لِيْ أَمْرِيْ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِيْ يَفْقَهُوْا قَوْلِيْ۔ سات بار، آخر میں درودِ پاک تین بار۔ بچوں کے کھانے پینے کی چیزوں پہ دم کر کے ان کو استعمال کرائیں، ان شاء اللہ بہتری آئے گی۔ واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved