• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

دادا کی جائیداد میں پوتی حق دار ہو گی یا نہیں؟

استفتاء

میرا نام خان کرم خان ہے۔ مجھے ایک اہم دینی مسئلہ میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ براہِ کرم اس میں رہنمائی فرمائیں۔مسئلہ یہ ہے:حاجی شیر باز کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ ایک بیٹے کا انتقال حاجی شیرباز کی زندگی میں ہو گیا تھا۔ حاجی شیر باز نے اپنی جائیداد اپنی زندگی میں اپنے دو بیٹوں، ایک بیٹی اور اپنے مرحوم بیٹے کے بیٹے (یعنی پوتے الطاف) کے درمیان تقسیم کر دی تھی اور قبضہ بھی دے دیا تھا۔ اس جائیداد میں حاجی شیر باز خان نے اپنے مرحوم بیٹے کی بیٹی(یعنی اپنی پوتی، الطاف کی بہن) کو کوئی حصہ نہیں دیا تھا۔2019ء میں پوتا یعنی الطاف بھی انتقال کر گیا ۔ اس کے ورثاء میں اس کی والدہ ، بیوہ ، ایک بیٹا اور ایک بہن تھی۔ پھر 2022ء میں اس بہن کا بھی انتقال ہو گیا۔ اب اس بہن کی اولاد اپنے ماموں زاد بھائی(اِبنِ الطاف) سے اپنی والدہ کے حصہ کا مطالبہ کر رہی ہے۔اس تفصیل کے بعد درج ذیل سوالات ہیں:1: کیا شرعی طور پر وراثت میں اس پوتی ( الطاف کی بہن ) اس کا کوئی حصہ بنتا ہے؟2: اگر حصہ بنتا ہے تو کتنا بنے گا اور وہ کس طرح تقسیم ہوگا؟3: چونکہ دادا حاجی شیر باز خان نے اپنی زندگی ہی میں اپنی جائیداد تقسیم کر دی تھی، کیا وہ تقسیم شرعاً نافذ ہوگئی تھی یا اس میں ابھی کوئی تبدیلی متوقع ہے؟ اس کی وضاحت فرما دیں، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جواب سے قبل  دو   باتیں سمجھ لیجیے!
پہلی بات:
ہر انسان اپنی زندگی میں اپنے مال و زر کا خود مالک و مختار ہوتا ہے، وہ اپنے مال میں جو بھی جائز تصرّف کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ جب تک انسان زندہ رہے اس  کےمال میں میراث جاری نہیں ہوتی، اس لیے اس  کی زندگی میں اس کے مال میں کسی وارث کا کوئی حق نہیں ہوتا اور نہ ہی  اولاد   میں سے کوئی  فرد اپنے حصے کا  مطالبہ   کر سکتا ہے۔
اگر کوئی بندہ اپنی خوشی سے اپنی زندگی ہی  میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد کو  تقسیم کرنا چاہے تو  ایسا کرنا  شرعاً  جائز ہے، لیکن اس کو وراثت نہیں کہا جاتا بلکہ یہ ہدیہ، عطیہ، تحفہ   یا گفٹ کہلاتا ہے ۔  
اپنی زندگی میں مال اپنی   تمام اولاد (یعنی دونوں بیویوں کی اولاد) کے درمیان بیٹوں اور بیٹیوں میں فرق کیے بغیر برابر تقسیم کیا جائے، یہ افضل اور بہتر صورت ہے۔ ہاں اگر وراثت کی تقسیم کے مطابق بیٹوں کو دوہرا(ڈبل) اور بیٹیوں کو اِکہرا(سنگل) حصہ دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔
بِلا وجہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ نہ دیا جائے۔  ہاں اگر کوئی معقول وجہ ہو مثلاً: اولاد میں سے کوئی نادار، مفلس، مستحق، غریب یا معذور  ہو، یا فرماں برداری ،  خدمت گاری، دین داری اور شرافت  کسی میں زیادہ ہو اور اس بنیاد پر اس  کو کچھ زیادہ مال دیا جائے تو اس کی  بھی گنجائش  ہے، بشرطیکہ دیگر اولاد کونقصان اور  ضرر پہنچانا مقصود نہ ہو۔
مال تقسیم کرنے کے بعد باقاعدہ طور پر ہر ایک کے قبضہ میں اس کا حصہ   دے دیا جائے تاکہ وہ اپنی مرضی سے اس پر تصرف کر سکے۔ جائیداد صرف نام کرا دینے سے  یا نام کرائے بغیر محض تصرف کا حق دے دینے سے ہبہ تام نہیں ہو گا۔ ہاں اگر اولاد میں سے کوئی ناسمجھ یا  نابالغ  ہو تواس کے سمجھ دار اور بالغ ہونے تک  والد اپنے قبضے میں اس کا حصہ رکھ سکتا ہے۔  
دوسری بات:
اگر فوت ہو نے والے شخص کے   ورثاء میں اس   کا بیٹا  موجود ہو تو اس  شخص  کے پوتے پوتیاں  اور بہن بھائی شرعاً  اس جائیداد میں حق دار نہیں ہوں گی۔   
اب ترتیب وار جوابات ملاحظہ کیجیے:
[1]: حاجی شیر باز خان مرحوم کی جائیداد میں اس کی پوتی(مرحوم بیٹے کی بیٹی ، الطاف کی بہن) کا شرعاً کوئی حصہ نہیں بنتا ۔   لہٰذا الطاف کی بہن  کی اولاد کا اس جائیداد میں سے حصہ طلب کرنا درست نہیں۔ 
لیکن  بہتر یہ ہوتا کہ مرحوم  شیرباز خان نے جب اپنے مرحوم بیٹے کی نشانی الطاف یعنی اپنے پوتے کو اس میں سے کچھ حصہ دیا تو اخلاقاً وہ کچھ نہ کچھ الطاف کی بہن کو بھی دے دیتے، اس طرح اس کی بھی دِل جوئی اور حوصلہ افزائی ہو جاتی۔ 
بہرحال جب مرحوم شیرباز خان نے نہیں دیا  تو شرعاً ان پر کوئی مؤاخذہ نہیں، کیوں کہ پوتی پوتے کو دینا شرعاً ان پر لازم نہیں تھا۔ 
[2]: شرعی طور پر وراثت میں  اس پوتی ( الطاف کی بہن ) کا حصہ نہیں بنتا۔ 
[3]: سوال نامہ میں موجود ہے کہ  مرحوم شیربازخان نے جائیداد تقسیم کے بعد ہر ایک کے قبضہ میں اس کا حصہ دے دیا  تھا۔ قبضہ میں دینے کا مطلب  کیا ہے؟
اگر قبضہ میں دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس جائیداد میں سے غیر منقولی جائیداد (زیورات، سونا ،چاندی،  نقدی ) ہر ایک کے حوالے کر دیے ہوں اور منقولی جائیداد کی کاغذی کاررِوائی مکمل کرا کے ہر ایک کے نام کروا دی اور ہر ایک کو اس میں تصرف کرنے کا مکمل اختیار دے دیا تھا ،  تو اس طرح کرنے سے مرحوم شیر باز خان کی طرف سے ہر ایک کو جائیداد میں سے کیا جانے والا ہبہ تام ہو گا۔ ہبہ تام ہونے کے بعد وہ جائیداد مرحوم شیر باز خان کی ملکیت سے نکل کر ہر ایک کی ملکیت میں منتقل ہو چکی، اور اس پر مرحوم شیرباز خان کا اختیار باقی نہ رہا۔  لہٰذا مرحوم شیر بازخان کی وفات کے وقت اس جائیداد کو اس کا ترکہ شمار نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کا کوئی وارث اس  کو ترکہ سمجھ کر اس میں سے حصہ لینے کا حق دار ہو گا۔  
اگر قبضہ کا مطلب یہ ہے کہ مرحوم کی طرف سے صرف تصرف کرنے کی اجازت دے دی گئی،  باقی قانونی طور پر ان  کے نام اس کی جائیداد کو منتقل نہیں کیا گیا اور مرحوم شیر باز خان کی وفات تک یہ صورت رہی تو یہ ہبہ ناقص کہلائے گا۔ اس ناقص ہبہ کو شریعت نے ملکیت کی تبدیلی میں معتبر قرار نہیں دیا یعنی اس ہبہ کے ذریعے سے وہ جائیداد مرحوم شیرباز خان کی ملکیت سے نکل کر دوسرے شخص کی ملکیت میں منتقل نہیں ہوگی۔ 
لہٰذا ایسی صورت میں مرحوم شیر باز خان کی وفات کے وقت موجود جائیداد ( جسے وہ زبانی طور پر کسی کو ہبہ کر چکا تھا)   شرعاً ترکہ شمار ہوگی  اور  یہ ترکہ صرف اسی فرد کو نہیں ملے گا جس کو زبانی ہبہ کیا تھا بلکہ اس جائیداد میں مرحوم شیر باز خان کی وہ ساری اولاد حق دار ہو گی جو ان کی وفات کے وقت  زندہ تھی۔  
تنبیہ! تقسیم کے بعد  قبضہ کی جو بھی صورت ہو یعنی ہبہ تام  والی صورت ہو یا ہبہ ناقص والی ، دونوں صورتوں میں  مرحوم شیر باز خان کے پوتے الطاف اور اس کی بہن کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔  ان دونوں یعنی الطاف اور اس کی بہن کی اولاد کے لیے اس ترکہ میں سے اپنے والد اور والدہ کے حصہ کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved