• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

چار آسمانی کتابوں میں تورات کا نام سب سے پہلے لینے کی وجہ

استفتاء

حضرت! میرا سوال یہ ہے کہ چار آسمانی کتابوں میں تورات کا نام سب سے پہلے لیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟برائے مہربانی تسلی بخش جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اللہ تعالیٰ نے کم وبیش سوا لاکھ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے چار انبیاء علیہم السلام پر کتب نازل فرمائیں۔ سب سے پہلے حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور، اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل اور سب سے آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید نازل فرمایا۔ ان چار آسمانی کتابوں میں سے چونکہ سب سے پہلے ”زبور“ کا نزول ہوا ہے اس نسبت سے آسمانی کتب کے تذکرہ میں سب سے پہلا نام ”زبور“ ہی کا ہونا چاہیے لیکن اس کے بجائے سب سے پہلے ”تورات“ کا نام لکھا اور بولا جاتا ہے تو ہماری نظر میں اس کی درج ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں:[۱]: حضرت موسیٰ علیہ السلام ان پانچ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ایک ہیں جنہیں ”اولو العزم“ قرار دیا گیا ہے جب کہ حضرت داؤد علیہ السلام ان ”اولو العزم“انبیاء علیہم السلام میں سے نہیں۔[۲]: تورات کے مخاطب یہود ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھے اور آج بھی موجود ہیں جبکہ زبور پر عمل کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود نہیں تھے۔ یہود کی وجہ سے تورات کا ذکر بھی بکثرت ہوتا تھا۔ اس لیے عام استعمال میں تورات کا لفظ پہلے بولا اور لکھا جانے لگا ورنہ ترتیب وہی ہے جو عرض کردی گی ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved