- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میری والدہ کا انتقال ہوچکا ہے۔ میں ان کو ایصال ثواب کرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے تمام نیک اعمال میری والدہ اور والد کو مل جائیں ۔ والد صاحب حیات ہے۔ اس لیے ہر عمل کے بعد میں یہ کہہ دیتا ہوں کہ ان کا ثواب اور نیکی میں نے اپنے والدین کو دی۔ تو یہ طریقہ درست ہے کیا دونوں کو مل جائے گا برابر حصہ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
انسان جب کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اس کے والدین کو اس کا ثواب پہنچتا ہے چاہے وہ اس کی نیت کرے یا نہ کرے مرنے کے بعد انسان کا اعمال کرنا ختم ہو جاتا ہے لیکن بعض اعمال کا ثواب ملتا رہتا ہے لہذا مذکورہ صورت میں آپ کے نیک اعمال کا ثواب برابر آپ کے والدین کو ملتا ہے۔عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة إلا من صدقة جارية أو علم ينتفع به أو ولد صالح يدعو له (صحیح مسلم ج2ص41)ترجمہ: حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب انسان مر جاتاہے تو اس کاعمل منقطع ہوجاتاہے ۔سوائے تین اعمال کے صدقہ جاریہ ،ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جارہا ہو اور نیک اولاد جوا س کے لیے دعا کرتی ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved