- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ میں نے ایک تحریر لکھنا شروع کی جسے میں اپنے کورس “صراط مستقیم” کی تکمیل پر بیان کروں گی اس میں میری کوشش تھی کہ جو حدیث لکھوں اس کا حوالہ بھی ساتھ لکھوں اس تحریر میں عالم، متعلم کی شان میں ایک روایت لکھی روایت کے الفاظ یہ ہیں :عالم اور متعلم جب کسی بستی کے قبرستان میں سے گذرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے گزرنے کی وجہ سے اس بستی کے قبرستان سے چالیس دن کےلیے عذاب ہٹا دیتے ہیں ۔۔جب میں نے اس کا حوالہ تلاش کیا تاکہ اس تحریر کو مکمل کروں تو مجھے اس کا حوالہ نہیں ملااپنی کلاس فیلو سے اور اپنی معلمات اور استاد محترم سے بھی اس روایت کے بارے پوچھا انہوں نے فرمایا کہ ہمیں یاد نہیں بالآخر میں نے نیٹ پر سرچ کی تو مجھے مل گئی*إنَّ العالِمَ والمتعلمَ إذا مرا على قريةٍ فإنَّ اللهَ تعالى يرفعُ العذابَ عن مقبرةِ تلك القريةِ أربعينَ يومًاخلاصہ کلام یہ ہے کہ میں نے یہ حدیث کئی مقامات پر لوگوں کو سنائی عالم اور متعلم کی شان میں اور ان کو یہ کہا کہ اس حدیث کو یاد کرلیں ۔میں بہت پریشان ہوں اس بارے میں کہ جو بات میں نے سب کو بیان کیا اس بارے ایک جگہ نیٹ پر یہ پڑھا کہ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہہ کر بیان کرنا غلط ہے ۔میری اس بارے رہنمائی فرمائیےاس روایت کا کیا حکم ہے اور اگر انجانے میں بیان کردیا اس حدیث کو تو اس انسان کو اب کیا کرنا چاہیے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
امام اسماعیل عجلونی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو موضوعات میں شمار کیاہے لہٰذا اس کو بیان نہیں کرنا چاہیے۔“كشف الخفاء ومزيل الإلباس عما اشتهر من الأحاديث على ألسنۃ الناس” میں علامہ اسماعیل عجلونی اس روایت کو نقل کرتے ہیں اور فرماتے ہیں اس کی کوئی اصل نہیں ہےكشف الخفاء ومزيل الإلباس عما اشتهر من الأحاديث على ألسنۃ الناس ۔رقم :672اگر انجانے میں اس کو کوئی حدیث کہہ کر بیان کرے تو اللہ کے حضور توبہ کرے اور اگرممکن ہو سکے تو جہاں جہاں اس کو بیان کیا ہے وہاں ان کو اگاہ کر کےاس سے رجوع کیا جائے ۔واللہ اعلم بالصواب
© Copyright 2025, All Rights Reserved