• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

الوّ پالنے کا حکم

استفتاء

گھر میں الّو کو پالنا کیسا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

واضح رہے کہ پرندے کو پالنا شرعاً جائز ہے لیکن چند شرائط کو ملحوظ رکھا جائے ۔مثلاًان کے کھانے پینے کا خاص اہتمام کیا جائے۔ان کی حق تلفی نہ کی جائے۔ان پر کسی قسم کی سختی نہ کی جائے۔بیمار ہونے کی صورت میں مکمل علاج معالجہ کیا جائے۔ ان کو تکلیف نہ دی جائےحضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی ابو عمیر نے ایک چڑیا پال رکھی تھی۔ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم جب تشریف لاتے تو پوچھتے :يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ نُغَرٌ کَانَ يَلْعَبُ بِه.صحیح بخاري۔رقم الحدیث: 5850۔صحیح مسلم۔رقم الحدیث: 2150
’’اے ابو عمیر! نغیر (ایک پرندہ) کا کیا کیا؟ وہ بچہ اس پرندہ سے کھیلتا تھا‘‘اس روایت سے معلوم ہوا کہ پرندوں کو گھر میں پالنے کی اجازت ہے۔چنانچہ اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:إن في الحديث دلالة على جواز إمساك الطير في القفص ونحوه، ويجب على من حبس حيواناً من الحيوانات أن يحسن إليه ويطعمه ما يحتاجه لقول النبيفتح الباری ۔ج10ص548
اس حدیث سے پرندے کو پنجرے وغیرہ میں بند کرنے کے جواز پر دلیل ملتی ہے۔ پرندے کو رکھنے والے پر واجب ہے کہ وہ اس کے کھانے وغیرہ کا خصوصی اہتمام کرے۔لیکن پالنے کی صورت میں ان شرائط کا لحاظ کیا جائے کیونکہ ان کی حق تلفی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔دخلت امرأة النار في هرة ربطتها فلم تطعمها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرضصحیح بخاری۔کتاب بدءالخلق،رقم الحدیث:2
ترجمہ: ایک عورت صرف اس لئے جہنم میں چلی گئی کہ اس نے ایک بلی باندھ رکھی تھی، لیکن اسے نہ تو کھانا کھلایا اور نہ ہی اسے زمین میں کھلا چھوڑ دیا کہ وہ حشرات الارض سے پیٹ بھر لے۔خلاصہ یہ ہے کہ پرندوں کو پالنا جائز ہے لیکن اس کی حق تلفی نہ ہو ورنہ پالنا جائز نہیںواللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved