- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ آپ نے ایک بیان میں مومن کے مسجد میں رہنے کی ایک مثال دی تھی جس کےالفاظ یہ تھے ۔۔ المؤمن في المسجد كالسمك في الماء والمنافق في المسجد كالطير في القفص. اور اس کا ترجمہ یہ بنتا ہے مومن مسجد میں ایسے خوش ہوتا ہے جیسے مچھلی پانی میں اور منافق ایسے ہوتا ہے جیسے پرندہ پنجرے میں ہوتا ہے لیکن کسی نے کہا کہ یہ حدیث کے الفاظ نہیں ہیں ۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ جملہ اگرچہ بطور حدیث مشہور ہے لیکن یہ حدیث نہیں بلکہ یہ حضرت مالک بن دینار کا قول ہے ۔ملا علی قاری (م1014ھ) نے اس کو مقولہ کے طور پر نقل کیا ہے(اذا خرج منہ )ای من المسجد (حتی یعود الیہ )لان المؤمن في المسجد كالسمك في الماء والمنافق في المسجد كالطير في القفص(مرقاۃ المفاتیح: باب المساجد و مواضع الصلاۃ،الفصل الاول،حدیث نمبر13)
شیخ اسماعیل بن محمد عجلونی (م1162ھ) فرماتے ہیںالمؤمن في المسجد كالسمك في الماء والمنافق في المسجد كالطير في القفص.لم اعرفہ حدیثاًوان اشتھر بذلک ویشبہ وان یکون من کلام مالک بن دینار فقد نقل المناوی عنہ انہ قال : المنافقون فی المسجد کالعصافیر فی القفص
كشف الخفاء ومزيل الالباس عما اشتهر من الاحاديث على السنۃ الناس: ج2 ص94
ترجمہ:مومن مسجد میں ایسے ہوتا ہے جیسے مچھلی پانی میں اور منافق ایسے ہوتا ہے جیسے پرندہ پنجرے میں ہمیں یہ حدیث معلوم نہیں ہوتی اگرچہ یہ حدیث کے نام سےمشہو ر ہے یہ امام مالک بن دینار کے کلام سے ملتا جلتا ہےامام مناوی نے ان سے نقل کیا ہے کہ منافقین مسجد میں ایسے ہوتے ہیں جیسے پرندے پنجرے میں ہوتے ہیں ۔نوٹ : میں معذرت چاہتاہوں کہ میں ایک جملہ کو اپنے بیانات میں حدیث کے طور پر بیان کرتا رہا لیکن وہ حقیقۃًحدیث رسول نہیں ہے بلکہ وہ امام مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ کا مقولہ ہے لہذا آئندہ اس مقولہ کو بطور حدیث بیان کرنے سے احتراز کروں گاواللہ اعلم بالصوابمتکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمنمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved